ضلع شوپیان میں رات 10 بجے کے بعد آتش بازی پر دو ماہ کیلئے پابندی عائد
ضلع مجسٹریٹ شوپیان ششیر گپتا نے دفعہ 163 کے تحت ضلع میں رات 10 بجے کے بعد ہر قسم کی آتش بازی اور پٹاخے جلانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور آئندہ دو ماہ تک مو¿ثر رہے گا، تاہم ضرورت کے مطابق اس میں توسیع یا قبل از وقت منسوخی بھی کی جا سکتی ہے۔
ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ رات گئے آتش بازی سے شدید شور پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں فضائی اور صوتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور شہریوں کو مختلف طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکمنامے کے مطابق اس سے سانس کی تکالیف، دل کی بیماریوں کا خطرہ، نیند میں خلل اور بزرگوں، شیر خوار بچوں، مریضوں اور طلبہ میں خوف و ہراس اور ذہنی دباو¿ پیدا ہوتا ہے۔
حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ آتش بازی سے پیدا ہونے والا شدید شور ضلع میں تعینات سکیورٹی فورسز کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنتا ہے، کیونکہ اس سے رات کے وقت سیکورٹی اہلکاروں میں غیر ضروری تشویش اور کنفیوڑن پیدا ہوتی ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور آپریشنل استعداد کو متاثر کر سکتی ہے۔ضلع مجسٹریٹ نے اپنے حکم میں سپریم کورٹ کی ہدایات اور سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے رہنما اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ اوقات کے بعد آتش بازی عوامی امن میں خلل ڈالنے، عوامی پریشانی پیدا کرنے اور جان و مال کے لیے خطرہ بننے کا سبب بنتی ہے، اس لیے فوری احتیاطی اقدامات ناگزیر تھے۔
حکم کے مطابق رات 10 بجے کے بعد ضلع شوپیان میں ہر قسم کے پٹاخے، فضائی آتش بازی (ایریل فائر ورکس) اور سیریز کریکرز سمیت تمام آتش بازی پر مکمل پابندی ہوگی۔ضلع انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی دفعہ 223 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکم نامہ ضلع مجسٹریٹ کے دفتر اور ماتحت دفاتر کے نوٹس بورڈز پر آویزاں کیا جائے گا، جبکہ عوامی آگاہی کے لیے اسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی مشتہر کیا جائے گا۔
Comments are closed.