خواتین کو بااختیار بنانا وکست جموں و کشمیر کی بنیاد /منوج سنہا
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے لوک بھون سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کشمیر ویمنز آرگنائزیشن فیلوشپ کے 32 باصلاحیت مستحقین کو تہنیت پیش کی۔اس موقع پر اپنے خطاب میں لیفٹنٹ گورنر نے فیلوشپ حاصل کرنے والی خواتین کو جموں و کشمیر کی اس تبدیلی کی علامت قرار دیا جو خود اعتمادی، مساوی مواقع اور باوقار زندگی پر مبنی مستقبل کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے ڈاکٹر فدا فردوس اور کشمیر ویمنز آرگنائزیشن کے تمام اراکین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے ایک ایسا مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں خطے کی ناری شکتی اپنی صلاحیتوں، خیالات اور شناخت کے ساتھ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کی تعمیر میں مو¿ثر کردار ادا کر رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ”مختصر عرصے میں کشمیر ویمنز آرگنائزیشن امید، اعتماد اور مثبت تبدیلی کا ایک طاقتور مرکز بن چکی ہے۔
یہ فیلوشپ پروگرام اجتماعی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کی عملی مثال ہے“۔انہوں نے کہا کہ ان خواتین نے معاشرے میں جڑی ہوئی فرسودہ سوچ اور دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ کامیابی کے نئے راستے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے حوصلہ، اعتماد اور رہنمائی کا ذریعہ بنیں گی۔منوج سنہا نے جموں و کشمیر کی تاریخی شخصیات رانی ددہ، کوٹا رانی، لال دید، حبہ خاتون اور ماتا روپا بھوانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم خواتین نے جموں و کشمیر کی تہذیبی و سماجی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا اور ناری شکتی کی بلند ترین مثالیں قائم کیں۔انہوں نے کہا”ہمارے سامنے ایسی کئی عظیم مثالیں موجود ہیں اور میری خواہش ہے کہ جموں و کشمیر کی خواتین خطے کی ترقی کی قیادت کریں“۔
لیفٹنٹ گورنر نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی خواتین کو ان کے جائز حقوق دلائے اور ان کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا۔انہوں نے خواتین کی قیادت پر مبنی ایک ترقی یافتہ جموں و کشمیر کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا”خواتین کو بااختیار بنانا وکست جموں و کشمیر کی بنیاد ہے۔ خواتین کی ترقی ہی معاشرے کی ترقی کو یقینی بناتی ہے “انہوں نے مزید کہا”میں ایسے جموں و کشمیر کا تصور کرتا ہوں جہاں خواتین تعلیم، صنعت، سماجی تنظیموں اور حکمرانی میں قائدانہ کردار ادا کریں، پالیسیاں تشکیل دیں، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں اور فن، ادب اور ثقافت کو مزید مالا مال کریں“۔
Comments are closed.