واہگہ۔اٹاری سرحد پر 14 اگست کی شب شمعیں روشن کی جائیں گی/منتظمین

امرتسر/ 4 جولائی/ٹی آئی نیوز/

ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان امن، دوستی اور باہمی ہم آہنگی کا پیغام عام کرنے کے مقصد سے گزشتہ چار دہائیوں سے واہگہ۔اٹاری سرحد پر شمعیں روشن کرنے والی تنظیموں نے اس سال بھی 14 اگست کی شب سرحد کے دونوں جانب شمعیں روشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ تقریب ساو¿تھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (SAFMA) کے زیر اہتمام واہگہ بارڈر پر منعقد ہوگی، جبکہ بھارت کی جانب سے ہند۔پاک دوستی منچ اور فوک لور ریسرچ اکیڈمی اس پروگرام کا اہتمام کریں گی۔

پاکستان میں شمع روشن کرنے کی تقریب سے قبل لاہور میں SAFMA آڈیٹوریم میں سہ پہر 4 بجے سے 6 بجے تک "امن کو ایک اور موقع دیں” کے عنوان سے بھارت۔پاکستان تعلقات پر ایک سیمینار منعقد ہوگا۔ اس میں سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سینئر صحافی راشد رحمان، مجاہد الرحمن سمی، خلق پارٹی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر امن جان، تنظیم "فکر و امن” کی رہنما ہما زمان خان اور SAFMA کے سیکریٹری جنرل امتیاز عالم سمیت متعدد مقررین خطاب کریں گے۔اس کے بعد شام 6:30 بجے سے 8:30 بجے تک انسانی حقوق کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد ہوگی، جس کا عنوان "انسانی حقوق کی صورتحال اور تنازعات کا حل” رکھا گیا ہے۔

یہ کانفرنس پیپلز رائٹس انفورسمنٹ موومنٹ (PREM) کے زیر اہتمام ہوگی۔بعد ازاں 14 اگست کی شب واہگہ بارڈر کے پاکستانی حصے میں شمعیں روشن کی جائیں گی۔ SAFMA کے سیکریٹری جنرل امتیاز عالم نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان امن، مکالمے اور باہمی اعتماد کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔دریں اثنا، بھارتی ریاست پنجاب کے شہر امرتسر میں ہند۔پاک دوستی منچ اور فوک لور ریسرچ اکیڈمی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 14 اگست کی نصف شب اٹاری۔واہگہ سرحد کے بھارتی حصے میں روایتی شمع روشن تقریب کا انعقاد کریں گی۔اس سے قبل امرتسر کے ورسہ وہار میں صبح 11 بجے سے دوپہر ڈھائی بجے تک "بھارت۔پاکستان تعلقات: مشکلات اور امکانات” کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا، جس میں پنجاب سمیت مختلف ریاستوں کے دانشور، سماجی کارکن اور امن کے حامی افراد شرکت کرکے دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات پر اظہار خیال کریں گے۔منتظمین کے مطابق ان تقریبات کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں پروگرام کی مزید تفصیلات بھی جاری کی جائیں گی۔ تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ سرحد پر شمعیں روشن کرنے کی یہ روایت گزشتہ کئی برسوں سے امن، دوستی اور باہمی احترام کے پیغام کی علامت کے طور پر جاری ہے۔

Comments are closed.