بارہمولہ رشوت ستانی کیس: فائر سروس اہلکار کے خلاف چارج شیٹ دائر

انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے جمعہ کے روز بارہمولہ کے ایک رہائشی سے رشوت طلب کرنے کے الزام میں گزشتہ سال درج مقدمے میں محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایک اہلکار کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی۔ملز

م نثار احمد وانی، جو اس وقت سوپور میں سینئر فائر مین کے عہدے پر تعینات تھا، کے خلاف انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دسمبر 2024 میں درج شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے ایک سرکاری معاملے میں رشوت طلب کی تھی۔اے سی بی نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد چارج شیٹ خصوصی جج انسدادِبدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں سماعت کے لیے پیش کر دی۔

اے سی بی کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ ملزم نے جنباز پورہ، بارہمولہ میں لکڑی کی فروخت کے ڈپو (ٹمبر سیل ڈپو) کے قیام کے لیے درکار فائر سیفٹی نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کرانے میں سہولت فراہم کرنے کے عوض رشوت طلب کی تھی۔

مزید الزام تھا کہ ملزم درخواست سے متعلق اخراجات کے نام پر پہلے ہی شکایت کنندہ سے 1,500 روپے وصول کر چکا تھا اور بعد میں ایندھن اور دیگر ضمنی اخراجات کا بہانہ بنا کر 5,000 روپے بطور رشوت طلب کیے ۔اے سی بی نے خفیہ تصدیق کے بعد الزامات کو بادی النظر میں درست پایا، جس کے بعد مقدمہ درج کرکے ایک خصوصی ٹریپ ٹیم تشکیل دی گئی۔ 16 دسمبر 2024 کو ٹریپ کارروائی کے دوران ملزم کو مبینہ طور پر شکایت کنندہ سے رشوت طلب کرتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ملزم کو قانونی کارروائی کے مطابق گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں عدالت نے اسے ضمانت پر رہا کر دیا۔اے سی بی کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 19 کے تحت استغاثہ کی منظوری مجاز اتھارٹی سے حاصل کی گئی۔اس کے بعد سرکاری ملازم نثار احمد وانی کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی گئی۔

Comments are closed.