لیفٹنٹ گورنر کا ہندوستان کی سافٹ پاور کو مضبوط بنانے اور ثقافتی سفارت کاری کے فروغ پر زور
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج سری نگر۔نالندا ڈائیلاگ سے خطاب کیا۔ یہ تقریب کا اِنعقاد وزارت سیاحت، محکمہ ثقافت جموں و کشمیر، اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس (آئی جی این سی اے)، نیشنل سکول آف ڈرامہ اور نوا نالندا مہاویہار یونیورسٹی کے اِشتراک سے منعقد کی گئی۔
اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد علم اور روحانیت کے عظیم ورثے کو دوبارہ زندہ کرنا، ہندوستان کی تہذیبی روایات کو مضبوط بنانا اور ایک ایسی مستقبل پر مبنی تعلیم کو فروغ دینا ہے جو ہمارے نوجوانوں کو ماضی اور جدید ٹیکنالوجی دونوں سے جوڑتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی ثقافتی مکالمے کو فروغ دیتی ہے اور دونوںمل کر معاشرے کے اَخلاقی، ثقافتی اور اِنسانی کردار کو سنوارتے ہیں اور جامع پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔
منوج سِنہانے کہا،”جموں و کشمیر اور نالندا کے سکالروں نے مل کر دُنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک کی تشکیل کی۔ یہ ورثہ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ سری نگر۔نالندا ڈائیلاگ ہمیں یہ موقعہ فراہم کرتا ہے کہ ہم دانشمندی، جرا¿ت اور وِکست بھارت کے نئے ویژن کے ساتھ اس روشنی کو آگے بڑھائیں۔”
اُنہوںنے ہندوستان کی سافٹ پاور کو مزید مضبوط بنانے اور ثقافتی سفارت کاری کو فروغ دینے پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”صدیوں پہلے ہندوستان کے علم نے دنیا کو متحد کیا تھا۔ آج بھی ہم وہ پل بن سکتے ہیں جس کی دنیا کو ضرورت ہے۔ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔ آئیے ہم اعتماد اور ہمدردی کے ساتھ قیادت کریں۔“
اُنہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو زبانوں، عقائد، فنی روایات، فلسفیانہ مکاتبِ فکر اور متنوع طرزِ زِندگی کی عظیم میراث ورثے میں ملی ہے اور یہ تنوع ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”بہار سے لے کر جموں و کشمیر تک، تامل ناڈو کے مندروں سے لداخ کی خانقاہوں تک، کاشی کے گھاٹوں سے کشمیر کی وادیوں تک، ہر خطہ اَپنی منفرد ثقافتی شناخت اور طرزِ زندگی کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
ہمارا مشترکہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان تنوعات کو ایک ہم آہنگ اتحاد میں پرویا جائے جو قوم کے اجتماعی شعور کو مالامال کرے۔“
اُنہوں نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب ہمیشہ سے علم کے مراکز سے پہچانی جاتی رہی ہے۔ نالندا، تکشا شیلا، وکرمشیلا اور دیگر اِدارے عالمی علمی تبادلے کے مراکز تھے جہاں چین، کوریا، جاوا، فارس اور مغربی ایشیا سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔
منوج سِنہا نے کہا ،”نالندا اَپنے دور کی ایک زندہ علمی کائنات تھی۔ یہ تنقیدی سوچ اور تجسس کا مرکز تھا جہاں ہزاروںسکالرمنطق، قواعد، طب، ریاضی، فلسفہ، مذہب اور فنون پرگہر کام کیا۔ اِسی طرح جموں و کشمیر میں شاردا پیٹھ علم کا ایک منفرد مرکز تھاجہاں ریاضی سے لے کر موسیقی تک مختلف علوم کی تعلیم کے کو سمجھنے کی ضرورت ہے جن کی جڑیں تیسری صدی قبل مسیح میں شہنشاہ اشوک کے دور میں بہار کے علاقے میں مضبوط ہوئیں۔ یورپی سکالروںنے ایک وقت میں اِس ورثے کو نظر انداز کیالیکن یہ خوشی کی بات ہے کہ اس تقریب کے میزبان شہر سری نگر کی بنیاد بھی شہنشاہ اشوک نے رکھی تھی۔
اُنہوں نے کہا،”سری نگر۔نالندا ڈائیلاگ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس روایت کو ایک جدید اور عصری علمی منصوبے کے طور پر دوبارہ زندہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ جس طرح قدیم دور میں سکالرزنالندا سے جموں و کشمیر تک مخطوطات، فلسفے اور سائنسی نظریات لے کر سفر کرتے تھے ،ہمیں کھلے تبادلے اور خیالات کے گہرے تعلق کو بحال کرنا چاہیے۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمارے قدیم شہر علمی مراکز ہیں اور نالندا، سری نگر، جموں، پورمنڈل، وارانسی، ہمپی، سانچی، مدورائی، پوری اور تھنجاوور جیسے شہر صدیوں کا تجربہ اور علم رکھتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا،”ہمیں ان شہروں کے کردار کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے لئے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ثقافتی ورثے کا تحفظ اور سری نگر۔نالندا ڈائیلاگ جیسے پلیٹ فارمز کی ضرورت ہے۔“
Comments are closed.