جنگ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ، مذاکرات حل کا بہترین راستہ /مرمو

بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر امن، مکالمے اور تعاون کا پیغام دیا ہے کی بات کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ کسی بھی تنازعہ کا پائیدار حل جنگ کے بجائے باہمی بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔

اوڈیشہ کے ضلع میور بھنج کے رائرنگ پور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر درپدی مرمو نے کہا کہ جب بھی دنیا جنگوں، تنازعات یا غیر یقینی حالات کا شکار ہوئی، بھارت نے امن اور انسانیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے حل کا بہترین راستہ ہیں۔صدر مرمو وزیر اعظم نریندر مودی کے ہمراہ اوڈیشہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومت کی دوسری سالگرہ کی تقریبات میں شریک تھیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے وزیر اعظم مودی کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بااثر اور فعال قیادت کی بدولت عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ اور وقار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ملک اور عوام کی خدمت کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور ان کی قیادت میں بھارت نے مختلف شعبوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

صدر مرمو کے مطابق عالمی برادری نے کووڈ 19وبا کے دوران بھارت کی انتظامی صلاحیتوں اور صحت عامہ کے نظام کی کارکردگی کو قریب سے دیکھا۔صدر نے یاد دلایا کہ وبائی مرض کے مشکل دور میں بھارت نے نہ صرف اپنے شہریوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین فراہم کیں بلکہ متعدد دوست ممالک کو بھی ویکسین کی فراہمی کے ذریعے انسانی ہمدردی اور عالمی تعاون کی مثال قائم کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دنیا کے سامنے بھارت کے ذمہ دار اور معاون کردار کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں کے دوران بھی بھارت ہمیشہ متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے پیش پیش رہا ہے۔ خواہ زلزلے ہوں، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات، بھارت نے بروقت امدادی کارروائیوں اور انسانی معاونت کے ذریعے عالمی برادری کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔صدر مرمو نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اور قومی سوچ کی بنیاد امن، تعاون، انسانیت اور مشترکہ ترقی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تمام ممالک کو اختلافات کے حل کے لیے بات چیت، اعتماد سازی اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ایک پرامن اور مستحکم عالمی نظام کی تشکیل ممکن ہو سکے۔

Comments are closed.