لیفٹنٹ گورنر نے سینٹرل سنسکرت یونیورسٹی جموں میں مہاراجہ رنبیر سنگھ جی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی

جموں/16مارچ
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے پیر کے روز کہا کہ قوم شری مہاراجہ رنبیر سنگھ جی کی اِصلاحات ، متحرک ثقافت کی تعمیر اور ایک مضبوط اور ترقی پذیر جموںوکشمیر کی تشکیل کے لئے اُن کی بے حد مقروض ہے۔
اُنہوں نے کہا،”مہاراجہ رنبیر سنگھ نے جموں و کشمیر کوایک زندہ ہستی کے طور پر دیکھا۔ محض زمین نہیں بلکہ ایک ایسا متحرک ڈھانچہ جہاں ثقافت زِندگی بخشتی ہے اور اِصلاحات توانائی کی رہنمائی کرتی ہیں۔ان کے لئے اس کی روح صرف پہاڑوں اور دریاو¿ں میں نہیں بلکہ فکری اور روحانی اَقدار میں بسی ہوئی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر اِن باتوں کا اِظہار آج سینٹرل سنسکرت یونیورسٹی جموں کے کوٹ بھلوال کیمپس میں مہاراجہ رنبیر سنگھ جی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی تقریب اور یونیورسٹی کے جموں کیمپس کا نام بدل کر ’شری مہاراجہ رنبیر سنگھ کیمپس‘ رکھنے کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ شری مہاراجہ رنبیر سنگھ نے صرف جموں و کشمیر پر حکمرانی ہی نہیں کی بلکہ اُنہوں نے اسے ایک نیا ویژن دیا، اس کی تشکیل نو کی،اسے علم کی روشنی سے منور کیا، ثقافتی فراوانی سے آراستہ کیا اور آنے والی نسلوں کے لئے مادی، فکری اور روحانی حوالوں سے ایک عظیم میراث چھوڑا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سینٹرل سنسکرت یونیورسٹی جموں کیمپس کا نام تبدیل کرنا ثابت کرتا ہے کہ مہاراجہ رنبیر سنگھ کی روشن کردہ شعوری بیداری آج ڈیڑھ سو سال بعد بھی جموں و کشمیر کے معاشرے کی رہنمائی کر رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ایک محفوظ اور خوشحال جموں کشمیر کی تعمیر کے لئے اصولوں کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،”آج کے نوجوانوں پر یہ ذِمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی وسیع النظر اور اِنسان دوست اَقدار کو اَپنائیں اور قوم کی تعمیر میں اَپنا کردار اَدا کریں۔ جس طرح آج کا جموں و کشمیر مہاراجہ رنبیر سنگھ جی کی دُوراندیشی کی عکاسی کرتا ہے، اسی طرح اس کیمپس کو بھی ان کے نظریات کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔“
اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جو تکنیکی طور پر مضبوط لیکن اِنسانی لحاظ سے حساس ہو۔ اُنہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی فکری اور اخلاقی شعور کو تقویت دیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”اِنسانی فلاح کو مقدم رکھنے والا ہندوستان عالمی امن اور مشترکہ خوشحالی کے لئے پُرعزم ہے۔ اَب وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان دُنیا میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرے اور چیلنجوں سے بھرپور دنیا کی رہنمائی کرے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس طرح تیار کرنا ہوگا کہ وہ ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کریں۔ایسا ہندوستان جو قوموں کو اٹوٹ اتحاد میں باندھے اور عالمی امن و انسانی فلاح کے اعلیٰ مقاصد کو فروغ دے۔“
اُنہوں نے کہا کہ قدیم ہندوستان کا سفر کبھی یکطرفہ نہیںرہا، ایک ہاتھ میں سائنس تھی اور دوسرے میں ثقافت۔ اُنہوں نے مزید کہا ،”ہم نے ہمیشہ ایسی شخصیات کو اہمیت دی جن میں برہما گپتا کی ذہانت اور گوتم بدھ کی حکمت یکجا ہو۔ اس کیمپس کو بھی ایسی ہی شخصیات کی پرداخت کرنی چاہیے۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے خطہ میں گوروکل، سنسکرت پاٹھ شالہ یا وید پاٹھ شالہ کے قیام کے لئے مالی مدد کا بھی یقین دِلایا۔
اِس موقعہ پر سابق مرکزی وزیرڈاکٹر کرن سنگھ، پدم شری پروفیسروشوامورتی شاستری ، وائس چانسلرسینٹرل سنسکرت یونیورسٹی جموں پروفیسر شری نواس ورکھیدی، کلکتہ یونیورسٹی کے شعبہ سنسکرت ڈاکٹر کمل کشور مشرا، رجسٹرار سینٹرل سنسکرت یونیورسٹی جمون پروفیسر آر کے جی مرلی کرشنا، ڈائریکٹر پروفیسرستیش کمار کپور، یونیورسٹی کے شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، سینئر افسران، ممتازشہری اور بڑی تعداد میں طلبا¿ موجود تھے۔

Comments are closed.