جموں و کشمیر میں منشیات کے مکمل خاتمہ تک آرام نہیں کریں گے / لیفٹنٹ گورنر
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ وہ اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک کہ وہ جموں و کشمیر کو منشیات کی لعنت سے نجات نہیں دلاتے ہیں ۔
سرینگر میں خواتین کسانوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ تمام محکمے، خواہ وہ محکمہ سماجی بہبود ہو یا محکمہ صحت، منشیات سے پاک مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سنہا نے کہا”میں نے 11 اپریل کو جموں میں ’نشا مکت‘ مہم کا آغاز کیا ہے، اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ ہم منشیات کے استعمال کے مسئلے کو ختم نہیں کر دیتے“۔انہوں نے کہا ”جب وزیر اعظم نریندر مودی نے 2020 میں ‘نشا مکت بھارت ابھیان’ کا آغاز کیا تو جموں اور کشمیر میں بھی کافی کوششیں کی گئیں“۔
سنہا نے کہا ”پولیس اپنی طرف سے کارروائی کر رہی ہے، مزید منشیات پکڑی جا رہی ہیں، پہلے سے زیادہ گرفتاریاں ہو رہی ہیں، اور مزید مقدمات درج کیے جا رہے ہیں“۔
سنہا نے کہا کہ مئی کے پہلے ہفتے میں کشمیر میں انسداد منشیات کی مہم بھی شروع کی جائے گی۔انہوں نے کہا ”ہم 3 مئی کو مہم کے کشمیر باب کا آغاز کریں گے۔ میں آپ بہنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آگے آئیں اور منشیات سے پاک جموں و کشمیر کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔ “ سنہا نے کہا کہ حکومت اکیلے اس مسئلے پر قابو نہیں پا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایسی خواتین کو دیکھا ہے جنہوں نے ایک بچہ کھو دیا ہے یا ان کی بیٹی منشیات کے استعمال کا شکار ہوئی ہے۔ ہم اس لعنت سے اس وقت چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں جب حکومت کی طاقت عوام کی کوششوں سے تعاون کرے۔
Comments are closed.