کھٹوعہ کی معصوم آصفہ کے قاتلوں کو سز ا موت دینے اور متاثرین کو انصاف فراہم کی مانگ
سرینگر سمیت شمال جنوب میں طلبہ ،تاجروں اور دیگر کئی انجمنوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ، طلبہ اور فورسز کے مابین جھڑپیں بھی
سرینگر/17اپریل/ کھٹوعہ کی معصوم آصفہ کے قاتلوں کو سز ا موت دینے اور متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کے حق میں منگل کوسرینگر سمیت وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں طلبہ اور تاجروں کے علاوہ دیگر کئی انجمنوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران مظاہرین اور فورسز ے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئی جبکہ فورسز نے مشتعل طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے رنگین پانی اور ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔ سی این آئی کے مطابق طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اگرچہ انتظامیہ نے کئی کالجوں اور ہائیر اسکنڈری اسکولوں میں آج درس و تدریس کا کام معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود منگل کی صبح جب دیگر کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے ساتھ ہی شمالی کشمیر کے سوپور علاقے میں کھٹوعہ معاملے کو لیکر طلبہ نے احتجاج کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ قصبے میں ا س وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب ڈگری کالج سوپور میں زیر تعلیم درجنوں طلبہ و طالبات نے ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہرئے شروع کئے جس دوران وہاں تعینات فورسز اہلکاروں اور احتجاجی طلبہ میں جھڑپیں شروع ہوئی ۔ اسی دوران فورسز نے احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔بتایا جاتا ہے کہ احتجاجی طلبہ اور فورسز کے مابین جھڑپوں میں نصف درجن طلبہ زخمی ہو گئے۔۔ادھر ضلع بارہمولہ میں بھی اس وقت احتجاجی مظاہروں کی لہر شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ گورئمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ میں زیر تعلیم طالبات کی بڑی تعداد نے کھٹوعہ میں معصوم آصفہ کو انصاف فراہم کرانے کے حق میں احتجاجی ریلی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریلی میں شامل طالبات آصفہ کو انصاف فراہم کروں ، قاتلوں کو پھانسی دو کے نعرہ بلند کر رہے تھے جس کے بعد انہوں نے تحصیل آفس کے باہر دھرنا دیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ اسی دوران احتجاجی طالبات کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے رنگین پانی کی دھار جبکہ معمولی نوعیت کے طاقت کا استعمال کیا جس کے بعد احتجاجی طالبات منتشر ہوئے ۔ادھر بانڈی پورہ سے ملی اطلاعات کے مطابق طلبہ کی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی نکالی جس دوران انہوں نے طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے ا حتجاجی مظاہرے شروع کئے جس دوران مظاہرین نے اسلام و�آزادی کے حق میں نعرہ باز ی کی ۔نمائندے نے عین شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ احتجاجی طلبہ جنہوں نے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اُٹھائے تھے مطالبہ کر رہے تھے آصفہ کے قاتلوں کو پھانسی دی جائے اور متاثرہ کنبے کو انصاف فراہم کیا جائے ۔ اسی دوران ایس پی کالج سرینگر اور گورئمنٹ ہائیر اسکنڈری اسکول کوٹھی باغ میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات نے ہاتھوں میں پلے کار ڈ تھے، جن پر آصفہ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے مطالبے کو لیکر تحریریں درج تھیں۔ اسی دوران وادی کشمیر کے دوسرے علاقوں کے علاوہ بیرون ریاستوں کے مختلف مقامات پر لوگوں نے معصوم آصفہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
Comments are closed.