اننت ناگ واقعہ : لیفٹنٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی مذمت ، لواحقین سے تعزیت

اننت ناگ میں دہشت گردوں کے حملے میں جموں و کشمیر پولیس کے تیسری بٹالین انڈیا ریزرو پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کی ہلاکت پر لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے جاں بحق پولیس اہلکار کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی ہرگز رائیگاں نہیں جائے گی اور اس بزدلانہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے گا۔

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے واقعے کے فوراً بعد ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات سے بات کر کے مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک اس غم کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

لیفٹنٹ گورنر نے اپنے بیان میں کہا کہ اننت ناگ کا یہ بزدلانہ دہشت گرد حملہ قابل مذمت ہے اور اس گھناو¿نے جرم میں ملوث عناصر کو کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جموں و کشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز پوری مستعدی کے ساتھ کارروائی میں مصروف ہیں اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔دریں اثنا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنی جان قربان کر کے فرض شناسی اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس المناک واقعے پر انتہائی افسردہ ہیں اور جاں بحق پولیس اہلکار کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا یہ بزدلانہ حملہ نا قابل برداشت ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔عمر عبداللہ نے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عاشق حسین قریشی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔

Comments are closed.