مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز ہوگیا، لاکھوں عازمینِ حج منیٰ پہنچنا شروع

دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچ گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
عازمینِ حج آج کا پورا دن اور رات منیٰ کی خیمہ بستی میں قیام کریں گے اور وہاں پانچوں وقت کی نمازیں ادا کریں گے۔ منیٰ میں رات بھر قیام کے بعد، کل صبح نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد تمام عازمین میدانِ عرفات کے لیے روانہ ہوں گے۔ حج کا رکنِ اعظم ‘وقوفِ عرفات’ کل ادا کیا جائے گا جہاں عازمین مسجدِ نمرہ سے دیا جانے والا خطبہِ حج سنیں گے اور ظہر و عصر کی نمازیں قصر ملا کر ایک ساتھ ادا کریں گے۔

میدانِ عرفات میں غروبِ آفتاب تک اللہ کے حضور توبہ استغفار اور دعاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ غروبِ آفتاب کے فوراً بعد عازمینِ حج عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ عازمینِ حج رات کھلے آسمان تلے مزدلفہ میں گزاریں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر ایک ساتھ ادا کی جائیں گی، اور جمرات (شیطانوں) کو مارنے کے لیے کنکریاں چُنی جائیں گی۔

10 ذوالحجہ کی صبح عازمینِ حج مزدلفہ سے دوبارہ منیٰ پہنچیں گے جہاں بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جائیں گی، جس کے بعد قربانی کر کے بال کٹوائے جائیں گے اور احرام کھول دیا جائے گا۔ بعد ازاں حجاجِ کرام مکہ مکرمہ جا کر طوافِ زیارت کریں گے اور واپس منیٰ لوٹ آئیں گے۔ منیٰ میں قیام کے دوران حجاجِ کرام بقیہ دونوں دن بھی شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا عمل (رمی) جاری رکھیں گے اور 12 ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے قبل منیٰ سے روانہ ہوں گے، جس کے ساتھ ہی حج کے تمام مناسک مکمل ہو جائیں گے۔

Comments are closed.