مٹن ٹرانزٹ چارجز کا مسئلہ فوری حل کیا جائے: کشمیر ٹریڈ الائنس کا مطالبہ

سرینگر، کشمیر ٹریڈ الائنس نے جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب میں بھیڑ بکریوں پر عائد کیے جانے والے اضافی ٹرانزٹ چارجز کے معاملے کو فوری طور پر پنجاب حکومت کے ساتھ اٹھایا جائے، کیونکہ اس تنازعے کے باعث وادی کشمیر میں مٹن کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وادی میں شادیوں کا سیزن اپنے عروج پر ہے۔

کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز احمد شہدار نے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب حکام کی جانب سے عائد کردہ اضافی ٹرانزٹ چارجز نے مٹن تاجروں پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد تاجروں نے مویشیوں کی سپلائی معطل کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے اثرات اب عام صارفین تک پہنچنے لگے ہیں اور مقامی منڈیوں میں مٹن کی دستیابی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

شہدار نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کشمیر بھر میں سینکڑوں شادیاں طے ہیں اور روایتی ولیموں و دعوتوں میں مٹن ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سپلائی میں خلل برقرار رہا تو مٹن کی قلت، قیمتوں میں اضافہ اور عوام میں غیر ضروری خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ ہم جموں و کشمیر حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پنجاب حکومت کے ساتھ بات چیت کر کے اس مسئلے کا حل نکالے۔ مٹن تاجروں کے تحفظات جائز ہیں اور اگر اس معاملے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو تاجر اور صارفین دونوں مشکلات کا شکار رہیں گے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف تاجروں تک محدود نہیں بلکہ اب عوامی مفاد کا مسئلہ بن چکا ہے۔ شادیوں کے موجودہ سیزن میں مٹن کی بلا تعطل فراہمی ہزاروں خاندانوں کے لیے ضروری ہے جو تقریبات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

کشمیر ٹریڈ الائنس نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور متعلقہ محکموں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر پنجاب حکومت کے ساتھ اٹھائیں تاکہ اضافی ٹرانزٹ چارجز پر نظرثانی کی جا سکے اور جموں و کشمیر میں مویشیوں کی معمول کی آمدورفت جلد از جلد بحال ہو۔

شہدار نے امید ظاہر کی کہ حکومت فوری کارروائی کرتے ہوئے سپلائی میں مزید رکاوٹوں کو روکے گی اور وادی بھر کی منڈیوں میں مٹن کی مناسب دستیابی کو یقینی بنائے گی۔

Comments are closed.