کھٹوعہ میں لیفٹنٹ گورنر نے ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم کے تحت’ پدیاترا ‘کو جھنڈی دِکھا ئی

جموں/13اپریل
منشیات سے پاک جموں و کشمیر کسی ایک فرد کی وجہ سے نہیں بلکہ اِجتماعی کوشش سے اُبھرتاہے۔ معاشرے کو سمجھنا ہوگا کہ منشیات صرف اَفراد کو نہیں مارتی بلکہ یہ پورے گاو¿ں، محلہ اور شہروں کی عزت اور تقدیر کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج پیر روز کہا ،”آئیے ایسا جموں و کشمیر بنائیں جہاں ہمارے نوجوانوں کی توانائی دُنیا کو روشن کرے، خود کو تباہ نہ کرے۔آئیے ہم اِس چیلنج کا ڈَٹ کر عزم کے ساتھ مقابلہ کریں۔“
لیفٹیننٹ گورنرسپورٹس سٹیڈیم کٹھوعہ میں ایک بڑے عوامی ریلی سے خطاب کر رہے تھے جہاںاُنہوں نے ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم کے تحت منشیات کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز کیا۔
اُنہوں نے سپورٹس سٹیڈیم سے گورنمنٹ ڈِگری کالج کٹھوعہ تک’ پدیاترا ‘کی قیادت کی جس میں ہزاروں شہری، عوامی نمائندے، سینئر اَفسران، سول سوسائٹی کے اَرکان، سماجی کارکن، این جی اوز، خواتین، طلبا¿ اور دیگر متعلقہ اَفراد شرکت کی جو سب’ نشہ مکت جموں و کشمیر ‘کے مشترکہ عزم کے تحت متحد تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ہر شہری اور کٹھوعہ کے ہرکنبے سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف متحد ہو جائیں۔
اُنہوں نے کہا،”میں کٹھوعہ ضلع کے ہر پنچایت، ہر گلی اور ہر کنبے سے منشیات کے خاتمے کے لئے عوامی اِنقلاب کی شمع روشن کر رہا ہوں۔ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ میرا اَٹوٹ عہد ہے۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمارا مستقبل صرف دستاویزات میں نہیں بلکہ آئندہ تین ماہ میں اس عوامی تحریک کے فیصلوں سے تشکیل پائے گا۔
اُنہوں نے کہا،”ہم نے ایک منظم 100 روزہ منصوبہ تیار کیا ہے جس میں چھ مراحل شامل ہیں۔ پہلے مہینے میں بیداری اور متحرک سازی، دوسرے مہینے میں سماج اور کنبوں تک گہری رَسائی جبکہ تیسرے مہینے میں دیرپائی کو مضبوط بنایا جائے گا۔“
منوج سِنہا نے کہا،”آنے والے تین ماہ صرف مہم نہیں چلائیں گے بلکہ دیرپا تبدیلی کے بیج بوئیں گے۔ اس مہم کی بنیاد ہمدردانہ بحالی ہے۔ ہمیں اَپنی سوچ بدلنی ہوگی: نشے کے عادی افراد مریض ہیں اور انہیں ہماری مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔“

Comments are closed.