لیفٹنٹ گورنر نے کشمیر لٹریچر فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا

سرینگر 30 مئی

لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج سرینگر میں کشمیر لٹریچر فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے ادیبوں سے اپیل کی کہ وہ افسانہ ، غیر افسانہ اور دیگر تخلیقی شکلوں کے ذریعے مثبت گفتگو کو فروغ دیں اور لوگوں کو تحریک دیں کیونکہ ادیب کا فن صرف الفاظ میں نہیں بلکہ لوگوں کی دھڑکن میں زندہ رہتا ہے ۔

ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ہمیں نوآبادیاتی ذہنیت کے ہر نشان کو مٹا دینا چاہئیے اور یہ یقینی بنانا چاہئیے کہ بیرون ملک لوگ ہماری تاریخ اور حال کو اپنے اپنے بیانوں کے حق میں مسخ نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ لکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان غلطیوں کو درست کریں اور سچائی کو عالمی قارئین تک پہنچائیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں دنیا کو بار بار یاد دلانا چاہئیے کہ جب تقریباً 6 ہزار سال پہلے ویدوں کی رچنا ہوئی تھی اس وقت بھارت دنیا کی معیشت، تعلیم ، ثقافت اور فلسفے کا مرکز تھا ۔ صدیوں تک بھارت عالمی تہذیب اور ثقافت کا انجن رہا ۔ اس نے سائنس ، ریاضی ، فلکیات اور طب میں اپنے عطیات کے ذریعے پوری دنیا میں معاشرتی و معاشی ترقی کی بنیاد رکھی ۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کو بحال کرنے اور اس کی حقیقی شکل کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے تا کہ بھارت کی داستان کو درست طور پر تشکیل دیا جا سکے ۔

لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ہمارے اباو¿ اجداد نے ویدک دور سے ہی حقائق کو ریکارڈ کیا اور علم کو بڑی درستگی کے ساتھ منتقل کیا ، لیکن مختلف وجوہات کی بناءپر جدید دور میں بھارت نے اپنی تاریخ خود لکھنے کی عادت کھو دی ۔

انہوں نے کہا ” ہم اپنی انمول روایات ، ثقافت ، علم اور سائنس کو دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے ، اسی وجہ سے بہت سے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کچھ چیزیں دوسرے مقامات سے آئیں یا فاتحین نے متعارف کرائیں ۔ یہ دعوے بے بنیاد ہیں ۔ “
لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ غیر ملکی مورخین نے بعض اوقات جان بوجھ کر بھارت کی قدیم دریافتوں اور سائنس ، ادب ، فنون لطیفہ اور فن تعمیر میں حاصل کردہ کامیابیوں کو نظر انداز کیا ہے ۔

Comments are closed.