دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا الزام، مزید دو سرکاری ملازمین برطرف
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت انتظامیہ نے دہشت گردی سے مبینہ روابط کے الزام میں دو مزید سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے
۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی آئین ہند کے آرٹیکل 311(2)(c) کے تحت عمل میں لائی گئی، جو قومی سلامتی کے معاملات میں بغیر باقاعدہ محکمانہ کارروائی کے ملازمین کو برطرف کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ برطرف کیے گئے ملازمین میں رام بن کے محکمہ تعلیم میں تعینات کلاس چہارم ملازم فرحت علی کھنڈے شامل ہیں، جن پر حزب المجاہدین کے لیے بطور سہولت کار کام کرنے کا الزام ہے۔تحقیقات کے مطابق، فرحت علی کھنڈے نے مبینہ طور پر اپنی سرکاری ملازمت کو بطور پردہ استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کرنے، حوالہ فنڈز کی ترسیل اور جنگجوو ¿ں کی مدد میں کردار ادا کیا، حتیٰ کہ سابقہ مقدمات میں ضمانت پر رہائی کے بعد بھی وہ سرگرم رہے۔دوسرے ملازم کی شناخت محمد شفیع ڈار، ساکن بانڈی پورہ کے طور پر ہوئی ہے، جو دیہی ترقی محکمہ میں تعینات تھے۔
ذرائع کے مطابق وہ لشکر طیبہ کے ایک متحرک ساتھی کے طور پر کام کر رہے تھے۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ، محفوظ پناہ گاہیں اور حساس معلومات فراہم کیں، جبکہ اپریل 2025 میں ایک مشترکہ سیکیورٹی آپریشن کے دوران اسلحہ کی برآمدگی میں بھی ان کا نام سامنے آیا تھا۔ذرائع کے مطابق اب تک 90 سے زائد سرکاری ملازمین کو دہشت گردی سے روابط کے الزام میں ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے، جو انتظامیہ کی زیرو ٹالرنس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری نظام کو دہشت گردی کے اثرات سے پاک رکھا جا سکے اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
Comments are closed.