سرننگر کی عدالت نے تین دہائیوں سے لاپتہ شخص کو مردہ قرار دیا
جموں و کشمیر کے سری نگر میں ایک خصوصی موبائل مجسٹریٹ عدالت نے تقریباً تیس سال پرانے گمشدگی کے ایک اہم معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے جولائی 1997 سے لاپتہ عبدالرشید وانی کو قانونی طور پر مردہ قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ ان کے خاندان کو موت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔
یہ فیصلہ خصوصی موبائل مجسٹریٹ مسرت جبیں کی سربراہی میں 4 اپریل کو سنایا گیا، جو وانی کی بیوی فریدہ شبنم اور ان کے دو بیٹوں کی جانب سے دائر دیوانی مقدمے پر دیا گیا۔ یہ سبھی مدینہ کالونی، بمنہ کے رہائشی ہیں۔
خاندان نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وانی کو مردہ قرار دیا جائے اور متعلقہ حکام کو موت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم دیا جائے، کیونکہ 1997 سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
اس مقدمے میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے پیدائش و اموات کے رجسٹرار کو فریق بنایا گیا تھا۔
ریکارڈ کے مطابق، 7 جولائی 1997 کو عبدالرشید وانی کو سری نگر کے راولپورہ علاقے سے فوج کے اہلکاروں نے ایک اور مقامی شخص فاروق احمد بھٹ کے ساتھ حراست میں لیا تھا۔ بعد میں بھٹ کو رہا کر دیا گیا، لیکن وانی کبھی واپس نہیں ۔ خاندآیا۔مسلسل کوششوں اور قانونی کارروائیوں کے باوجود بھی وانی کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
اس سے پہلے خاندان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس نے فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد سیشن جج کی تحقیقات کی بنیاد پر پرمپورہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی، مگر اس کے باوجود وانی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
عدالت نے اپنی رائے میں کہا کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک میجر نے وانی کو اپنی حراست میں قتل کیا اور لاش کو ٹھکانے لگا دیا۔
عدالت نے ہندستانی قانونِ شہادت کی دفعہ 108 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کے بارے میں سات سال تک کوئی خبر نہ ملے تو اسے قانونی طور پر مردہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں وانی 28 سال سے زیادہ عرصے سے لاپتہ تھا، جو قانونی مدت سے کہیں زیادہ ہے۔
Comments are closed.