پانپور کے زعفران زاروں میں پور کوپائن حملہ سے مقامی کسان پریشان حال
معراج بٹ
پانپور کے زعفران زاروں میں پور کوپائن حملہ کے باعث مقامی کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے جبکہ انہوں نے پیداوار میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔
کے پی ایس کے مطابق جنوبی قصبہ پانپور کے زعفرانی کھیتوں میں پور کوپائن جانور کی موجودگی سے مقامی کسانوں میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے ۔ مقامی کسانوں نے اس پر شدید خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ رات کے وقت پور کوپائن نامی جانور زعفران کے کھیتوں میں نمودار ہو رہا ہے اور انہوں نے وہاں نقصان پہنچا ہے ۔ کسانوں کا کہنا تھا کہ جانور نے زعفران کی کاشت کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے کسان اس سال کی پیداوار میں ممکنہ کمی کے بارے میں پریشان ہیں۔
مقامی کاشتکاروں کے مطابق جاتور رات کی اندھیرے کی آڑ میں زعفران کے کھیتوں میں داخل ہو رہے ہیں اور تازہ بوئے ہوئے بیچ کو کھود رہے ہیں، جس سے زمین کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے اور بوائی کی جاری سرگرمیوں میں خلل پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بار بار ہونے والے حملوں نے نہ صرف مالی نقصان پہنچایا ہے بلکہ کاشت جاری رکھنے میں کسانوں کے اعتماد کو بھی متزلزل کر دیا ہے۔خیال رہے کہ پانپور جو کہ عالمی شہرت یافتہ کشمیری زعفران پیدا کرنے کیلئے جانا جاتا ہے، ہندوستان کے زعفران کی پیداوار میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کسانوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر صورت حال برقرار رہی تو اس کے نتیجے میں پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے مقامی معاش اور مارکیٹ کی فراہمی دونوں متاثر ہوں گی۔ایک مقامی کسان نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ” ہم کوشش اور سرمایہ کاری کر رہے ہیں، لیکن راتوں رات سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے“۔ انہوں نے نے جانور کو قابو کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی مانگ کی ۔کاشتکار اب حکام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ حفاظتی حل کے ساتھ قدم اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت مداخلت کے بغیر، بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ کسان زعفران کی کاشت کو یکسر ترک کر دیں گے، جس سے خطے میں اس روایتی فصل کے مستقبل کو خطرہ ہو گا۔
Comments are closed.