راجوری میں پی ڈی ڈی میٹر ریڈر 30ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے گرفتا ر / اے سی بی

جموں کشمیر اینٹی کورپشن بیورو نے کا کہنا ہے کہ انہوں نے پی ڈی ڈی راجوری میں تعینات ایک میٹر ریڈر کو بجلی کے بڑھے ہوئے بل کو کم کرنے کے عوض شکایت کنندہ سے 30ہزار روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔

ایک بیان میں اے سی بی ترجمان نے کہا کہ انسداد بدعنوانی بیورو نے ایف آئی آر نمبر 03/2026جو پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں درج ہے کے معاملے میں عارف اقبال، جو اس وقت پی ڈی ڈی راجوری میں میٹر ریڈر کے طور پر تعینات ہیں کو ایک شکایت کی بنیاد پر جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ شکایت کنندہ سال 2019 سے 2021 تک ٹائر شاپ چلا رہا تھا، جس کے بعد اس کی دکان بند کردی گئی۔

بیان کے مطابق اس کے پاس بجلی کا کنکشن ہے اور وہ باقاعدگی سے اپنا بجلی کا بل ادا کر رہا تھا۔ اسے فروری 2026 میں 2497کی رقم میں 31دسمبر 2025سے 31جنوری 2026تک کی مدت کے لئے بجلی کا بل موصول ہوا۔

اس سلسلے میں پی ڈی ڈی راجوری کے عارف اقبال میٹر ریڈر نے شکایت کنندہ سے ملاقات کی اور اس سے 50ہزار روپے دینے کو کہا تاکہ وہ اپنے بجلی کے بل کی دیکھ بھال کر سکے اس شکایت کنندہ نے اسے بتایا کہ وہ میٹر ریڈنگ کے مطابق بل ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس نے شکایت کنندہ کو دھمکی دی کہ اس کا بجلی کا بل بڑھا دیا جائے گا۔ 05مارچ 2026کو عارف اقبال دوبارہ آیا اور 31.01.2026 سے 28.02.2026 کی مدت کا بجلی کا بل 153890کے حوالے کر دیا جس کی مقررہ تاریخ کے ساتھ 27.03.2026 کی شکایت کی گئی تو شکایت کنندہ نے 27.03.2026 تک بل ادا کرنے کا کہا۔ عارف اقبال (میٹر ریڈر) نے بل کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے 50ہزار روپے رشوت طلب کی، اس کے بعد مذکورہ مطالبہ کو 30ہزار روپے تک پہنچایا گیا

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ شکایت کنندہ مذکورہ میٹر ریڈر کو غیر قانونی تسلی نہیں دینا چاہتا تھا، اس لیے اس نے رابطہ کیا اور مذکورہ عارف اقبال (میٹر ریڈر) کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں تحریری شکایت درج کروائی۔

بیان کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد، اے سی بی پی ایس راجوری کی ایک ٹریپ ٹیم تشکیل دی گئی، ٹیم نے ملزم عارف اقبال، پی ڈی ڈی راجوری کے میٹر ریڈر کو شکایت کنندہ سے 30ہزار روپے رشوت طلب کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور اسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا، اس کے بعد ایف کے رہائشی راجوری کے گھر کی تلاشی بھی لی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کیس جاری ہے ۔

Comments are closed.