بھارت نے کابل میں اسپتال پر پاکستان کے حملے کی شدید مذمت کی، اسے غیر انسانی فعل قرار دیا
ہندوستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک اسپتال پر پاکستان کے حملے کو بزدلانہ اور غیر انسانی فعل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان پیر کی رات کابل میں واقع منشیات کے عادی افراد کی اصلاح کے اسپتال‘ پر پاکستان کے وحشیانہ فضائی حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ یہ تشدد کی ایک بزدلانہ اور غیر انسانی کارروائی ہے جس میں بڑی تعداد میں شہریوں کی جانیں گئیں۔ اس اسپتال کو کسی بھی طور پر فوجی ہدف نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب اس قتل عام کو فوجی آپریشن کا نام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی یہ گھناؤنی جارحیت افغانستان کی خود مختاری پر واضح حملہ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ یہ پاکستان کے مسلسل لاپرواہ رویے اور اپنی اندرونی ناکامیوں کو سرحد پار تشدد کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے ذریعے چھپانے کی بار بار کی جانے والی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران کیا گیا، جو دنیا بھر کے مسلم کمیونٹیز کے لیے امن، غور و فکر اور ہمدردی کا وقت ہوتا ہے، جو اسے مزید قابلِ مذمت بناتا ہے۔ ایسا کوئی مذہب، قانون یا اخلاق نہیں ہے جو کسی اسپتال اور اس کے مریضوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کو جائز قرار دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس مجرمانہ فعل کے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ افغانستان میں پاکستان کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کے یہ اندھا دھند حملے فوری طور پر بند ہوں۔
جیسوال نے کہا کہ ہندوستان سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے اور اس دکھ کی گھڑی میں افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔‘‘
Comments are closed.