سرینگر کے بے زمین و بے گھر خاندانوں کے لیے فی الحال کوئی نئی پالیسی زیر غور نہیں:سرکار

جموں،20فروری

جموں و کشمیر اسمبلی میں جمعہ کو محکمہ مالیات نے واضح کیا کہ سری نگر میں رہائش پذیر بے زمین اور بے گھر خاندانوں کو زمین یا مکان فراہم کرنے کے لیے اس وقت کوئی نیا منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔
یہ وضاحت نیشنل کانفرنس کی رکنِ اسمبلی شمیِمہ فردوس کے اُس سوال کے جواب میں پیش کی گئی جس میں انہوں نے استفسار کیا تھا کہ آیا حکومت سری نگر میں بے گھر اور بے زمین خاندانوں کو زمین یا مکان فراہم کرنے کی کوئی پالیسی بنانے جا رہی ہے۔
حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ فی الحال ایسا کوئی نیا منصوبہ موجود نہیں، تاہم گزشتہ برسوں میں اس حوالے سے دو اہم حکومتی فیصلے عمل میں لائے گئے تھے۔
جواب کے مطابق ادارہ جاتی کونسل کے فیصلے نمبر 158/2023 مورخہ 21 جون 2023 کے تحت حکومت نے ’پردھان منتری آواس یوجنا‘ کے تحت مستحق بے زمین استفادہ کنندگان کو دیہی ترقی محکمے کی مستقل انتظار فہرست 2018–19 کے مطابق 05 مرلہ سرکاری زمین لیز پر دینے کی منظوری دی تھی۔
جواب میں مزید بتایا گیا کہ کونسل آف منسٹرز کے فیصلے میں دوران سیلاب، لینڈ سلائیڈ، بادل پھٹنے اور زلزلوں جیسی قدرتی آفات سے بے زمین ہونے والے خاندانوں کو بھی 05 مرلہ سرکاری زمین لیز پر دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے مطابق مستفید خاندانوں سے کوئی پریمیئم وصول نہیں کیا جائے گا جبکہ سالانہ گراؤنڈ رینٹ صرف 10 روپے فی مرلہ مقرر کی گئی ہے۔ لیز کی مدت 40 سال ہوگی جس میں ضابطے کے مطابق توسیع کی جا سکے گی۔
حکومت نے واضح کیا کہ یہ تمام اسکیمیں مخصوص زمروں کے لیے ہیں، اور سری نگر کے شہری علاقوں کے لیے فی الوقت کوئی نئی جامع پالیسی تجویز کے مرحلے میں نہیں ہے۔

Comments are closed.