سرینگر میں 2024–25 میں 5 ہزار سے زائد کتے کے کاٹنے کے معاملات رپورٹ: سرکار

جموں،20فروری

جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کو سری نگر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد، ڈاگ بائٹ واقعات اور شہریوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کا معاملہ اس وقت نمایاں موضوع بن گیا جب رکن اسمبلی سلمان ساگر نے اس سنگین مسئلے کے حوالے سے جامع جواب طلب کیا۔ حکومت نے تسلیم کیا کہ شہر کے تقریباً تمام علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملے شہریوں خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ہاو¿سنگ و اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن نے آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر نس بندی، ویکسینیشن، پناہ گاہوں کی تعمیر اور عوامی بیداری پروگرام شروع کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سری نگر میں اس وقت تین اینیمل برتھ کنٹرول سینٹرز کام کر رہے ہیں۔

ان مراکز میں مجموعی طور پر 182 کینلز فعال ہیں، جن میں شالیمار، راولپورہ اور المنصور آلوچی باغ ہہامہ کے مراکز شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 سے ستمبر 2025 تک 15,266 آوارہ کتوں کی نس بندی کی گئی، جبکہ اسی مدت میں 15,725 کتوں کو ریبیز کے خلاف ویکسین دی گئی۔ سال 2023 میں 6,964 کتوں کی نس بندی کی گئی، 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 7,367 تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں اب تک 935 کتوں کی نس بندی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ویکسینیشن کے اعداد و شمار بھی اسی تناسب سے بڑھے، جہاں 2023 میں 7,160، 2024 میں 7,546، اور 2025 میں اب تک 1,019 کتوں کو ویکسین دی گئی۔سرکاری اعداد و شمار میں ڈاگ بائٹ کے واقعات میں معمولی کمی سامنے آئی ہے۔ سال 2024–25 میں سری نگر میں 5,135 ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سال 2025–26 کے آٹھ ماہ میں 4,890 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔حکومت نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار مجموعی اینٹی ریبیز ویکسین کی فراہمی پر مبنی ہیں اور ان میں پالتو کتوں، بلیوں اور بندروں کے کیس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

محکمہ نے بتایا کہ تمام ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن کا مناسب ذخیرہ موجود ہے تاکہ متاثرین کو فوری علاج مل سکے۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں میڈیا مہم، عوامی اعلانات، جِنگلز، پوسٹرز اور مذہبی مقامات پر آگاہی پروگرام کے ذریعے شہریوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ صرف جانوروں تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑا شہری انتظامی چیلنج ہے، جس کے لیے طویل المدتی اور مربوط حکمتِ عملی پر کام تیزی سے جاری ہے۔

Comments are closed.