زائد اَز8000 نئے کاریگر جی آئی رجسٹر ڈ پیپر ماشی دستکاری میں تربیت یافتہ:حکام

سرینگر 31 جنوری

محکمہ ہینڈی کرافٹ و ہینڈ لوم کشمیر نے ایک مقامی کشمیری روزنامہ میں شائع ہونے والی خبر کے کچھ حصوں کی سختی سے تردید کی جس کا عنوان تھا ’ یہ فن ہمارے ساتھ مر جائے گا ‘ ۔
محکمہ کے ترجمان نے آج جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں 29 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی اس خبر میں پیپر ماشی کاریگر ناصر احمد میر جن سے ایک رپورٹر نے انٹر ویو کیا تھا، کے بیان کردہ دعووں کا جواب دیا ۔
ترجمان نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ ہینڈی کرافٹ و ہینڈ لوم کے کشمیر ڈویژن میں 19 تربیتی مراکز ہیں، جو ہر سال تقریباً 400 کاریگروں کو ابتدائی اور اعلیٰ درجے کے تربیتی کورسز میں پیپر ماشی کاریگری کی عملی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا،”محکمہ نے وادی بھر میں 8,102 نئے پیپرماشی کاریگروں کو تربیت دی ہے جنہوں نے اس منفرد ہنر کو آگے بڑھایا اور اپنے لئے ایک مقام بنایا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے پیپر ماشی کاریگر اب بھی غیر منظم شعبے میں ہیںجنہیں رجسٹرڈ کیا جا رہا ہے تا کہ وہ حکومت کی مختلف فلیگ شپ سکیموں کے فوائد حاصل کر سکیں ۔
پیپر ماشی کاریگری میں کاریگروں کو فروغ دینے اور حوصلہ افزائی کیلئے گذشتہ 10 برسوں میں 25 ماسٹر کاریگروں کو یونین ٹیریٹری ایوارڈز سے نوازا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا ” اس کے علاوہ جے اینڈ کے کو پیپر ماشی کاریگری کے ماہرین جیسے فیاض احمد جان اور اقبال حسین خان نے فخر بخشا ہے ، جنہیں بالترتیب پدم شری اور شلپ گرو ایوارڈز سے نوازا گیا ہے تا کہ فن کی ترویج میں ان کے کردار کو تسلیم کیا جائے ۔ “
محکمہ کے ترجمان نے بتایا کہ سول فل کشمیر برانڈ پروموشن مہم کے تحت’اَپنے کاریگر کو جانیں‘ اقدام میں پیپر ماشی دستکاری کو خاص نمائندگی دی گئی ہے ، جو غیر ٹیکسٹائل دستکاری کے شعبے میں سب سے زیادہ مقبول ہے ، ساتھ ہی اخروٹ کی لکڑی کی کڑھائی بھی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپر ماشی کے بڑی تعداد میں کاریگروں کو جے کے ٹی پی او کی طرف سے مختلف جے اینڈ کے قومی تجارتی میلے میں شرکت کیلئے تجویز کیا جاتا ہے ، جن میں بھارت منڈیم میں منعقد ہونے والا آئی آئی ٹی ایف ہریانہ میں سورج کنڈ میلہ ، گاندھی شلپ بازار اور دیگر اعلیٰ سطح کے ایونٹس ہیں ۔

Comments are closed.