مرکزی بجٹ 2026-27 میں جموں و کشمیر کیلئے مالی معاونت میں اضافہ؛ مجموعی رقم 43 ہزار کروڑ سے متجاوز

سری نگر،یکم فروری

مرکزی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لئے پیش کیے گئے یونین بجٹ میں جموں و کشمیر کے لئے فنڈز میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے مجموعی الاٹمنٹ کو 43,290 کروڑ روپے تک پہنچا دیا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً دو ہزار کروڑ روپے زیادہ ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ نئی دہلی جموں و کشمیر کے مالیاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور وسائل کی کمی کو پورا کرنے کیلئے مسلسل معاونت فراہم کر رہی ہے۔
رواں مالی برس میں جموں و کشمیر کو دی جانے والی مرکزی امداد کے تخمینوں میں بھی ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت کل رقم کو 41,000 کروڑ روپے کے ابتدائی تخمینے سے بڑھا کر 41,340 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ اس اضافی ترمیم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اہم ترقیاتی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر مرکز نے فنڈنگ میں لچک برقرار رکھی۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق، نئے مالی سال کیلئے جموں و کشمیر کے وسائل کے خسارے کو پورا کرنے کی خاطر سب سے بڑا حصہ یعنی 42,650 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے، جب کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ کے طور پر اضافی امداد بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جہلم توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کیلئے مخصوص مالی معاونت اور سرمائے پر مبنی اخراجات میں مدد کیلئے اضافی رقم بھی شامل کی گئی ہے، تاکہ اہم انفراسٹرکچر، مواصلاتی نظام اور عوامی بہبود کے منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کی گئی یہ مالیاتی تخصیص نہ صرف انتظامی ذمہ داریوں کے بوجھ کو کم کرے گی بلکہ ترقیاتی رفتار میں اضافہ، پنچایتی و بلدیاتی ڈھانچوں کی مضبوطی، اور قدرتی آفات کے بعد بحالی جیسے اہم شعبوں میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ بجٹ پروگرام کی روشنی میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے برس میں یونین ٹیریٹری کے مجموعی مالی نظم و نسق میں مزید بہتری آئے گی اور زیرِ التوا ترقیاتی منصوبوں کو نئی رفتار ملے گی۔
یو این آئی،۔ ارشید ب

Comments are closed.