حریت :فوجی میجر کو اعزاز دینا بھارت کے اصلی چہرے کی عکاسی فوجی سربراہ کا بیان ظلم و بربریت ڈھانے کی نشانی

سرینگر /30مئی// فوجی سربراہ کے بیان کو ہندو فاسٹرزم کی عکاسی قرار دیتے ہوئے حریت کانفرنس (گ) کے چیر مین نے کہا کہ بھارت کے دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہوا انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے ولے فوجی افسر کو اعزاز سے نوازنے کی کارروائی اس بات کی عکاسی ہے کہ بھارت دنیا کا سب سے ظالم ترین ملک بن گیا ہے ۔اے پی آئی کو ارسال کئے گئے بیان کے مطابقچیرمین حریت سید علی گیلانی نے بھارتی فوجی سربراہ کے کشمیر کی صورتحال پر دئے گئے بیان اور اُن کی طرف سے میجر گگوئی کی سراہنا کرنے پر ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سیاسی قیادت سے لیکر فوجی قیادت تک عملاً ایک فاشسٹ ملک بن گیا ہے اور اس کا جمہوری دعویٰ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل بپن راوت نہ صرف ایک مجرمانہ ذہنیت کے آدمی ثابت ہوئے ہیں، بلکہ وہ جن سنگھی مائینڈ سیٹ بھی رکھتے ہیں اور اس لیے انہیں کئی دوسرے جرنیلوں کو بائی پاس کرکے فوجی سربراہ بنایا گیا ہے۔ گیلانی نے اپنے بیان میں کہا کہ جن سنگھی وزیر مسٹر وینکٹا نائیڈو نے جس طرح سے فوجی سربراہ کے بیان کی تائید اور توثیق کی ہے، اس سے کشمیر کے بارے میں بھارت کی سیاسی وفوجی قیادت کے ارادے صاف ظاہر ہیں کہ وہ کسی بھی کشمیری کو زندہ دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ ان کو صرف کشمیر کی زمین سے دلچسپی ہے، جس پر وہ اپنا ناجائز قبضہ ہر قیمت پر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ کشمیری راہنما نے کہا کہ ہم ایک عرصے سے بھارتی فوج کے ان جنگی جرائم کا رونا روتے تھے، جن کا ارتکاب وہ جموں کشمیر میں کررہی ہے، لیکن عالمی برادری اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی تھی اور نہ اس کا آج تک کوئی نوٹس لیا گیا، البتہ نہتے شہری کو جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے اور اس پر میجر گگوئی کو کوئی سزا دینے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنے سے ایک ٹھوس ثبوت سامنے آگیا ہے، کہ جموں کشمیر میں تعینات بھارت کی فوج کسی اخلاقی ضابطے کی پابند ہے اور نہ وہ اس سلسلے میں ان قوانین کا کوئی احترام کرتی ہے، جن کو پوری عالمی برادری نے تسلیم کیا ہوا ہے۔ گیلانی صاحب نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ بھارتی فوجی سربراہ کے بیان سے کشمیریوں کے جذبۂ آزادی اور حوصلے میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی۔ ہم نے بھی ساری کشتیاں جلا ڈالی ہیں اور واپسی کے تمام راستے بند کردئے ہیں۔ ہم ایسی دھمکیوں سے ماضی میں مرعوب ہوئے ہیں اور نہ مستقبل میں ان کا کوئی اثر ہونے والا ہے۔ جنرل بپن راوت نے ایسا بیان دیکر صرف اپنی شخصیت کو ایکسپوز کیا ہے اور اپنی سطحی ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ جب کوئی قوم اس سطح پر اُترتی ہے اور طاقت کے نشے میں مسرور ہوجاتی ہے تو پھر قانون قدرت اس کے بارے میں حرکت میں آتا ہے اور وہ مکافات عمل کے زد میں آجاتی ہے۔ بھارت کی سیاسی اور فوجی قیادت کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اصل طاقت اُس ذات کی ہے، جس نے پوری کائنات کو بنایا ہے اور جو اس کو چلارہا ہے۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ بسا اوقات بڑی جابر اور ظالم طاقتیں ختم ہوکر قصۂ پارینہ بن جایا کرتی ہیں اور کبھی کبھار کمزور اور بے بس قومیں اپنے قوت ارادی سے تاریخ کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیتی ہیں اور ایک نئی دنیا آباد کرتی ہیں۔

Comments are closed.