ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں، عوام گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں: راج ناتھ سنگھ

وزیر اعظم نریندر مودی کی توانائی کے تحفظ کی اپیل پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کے درمیان وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں ہے اور عوام کو گھبراہٹ میں خریداری سے بچنا چاہیے۔

مسٹر سنگھ نے پیر کے روز یہاں مغربی ایشیا کے بحران کے حوالے سے تشکیل دیے گئے وزراء کے غیر رسمی گروپ کی پانچویں میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں تنازع کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ہندوستان کی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عوام پر اس کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کے بعد جناب سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں تمام ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ سپلائی چین میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو روکنے کے لیے تمام ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزراء کے گروپ کو بتایا گیا کہ ملک میں ضروری اشیاء وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور موجودہ بچت کے اقدامات صرف طویل مدتی صلاحیت سازی کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں تاکہ بحران کے طویل ہونے کی صورت میں اس سے نمٹا جا سکے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سپلائی کا انتظام اطمینان بخش ہے اور لوگوں کو ایندھن یا دیگر اشیاء کی ضرورت سے زیادہ خریداری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کی ترجیح توانائی کی فراہمی کو بلا تعطل برقرار رکھنا، معاشی استحکام کو یقینی بنانا اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کو محض ایک الگ واقعے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ عالمی سطح پر جڑے ہوئے ماحول میں کسی بھی قسم کا بین الاقوامی بحران براہ راست یا بالواسطہ تمام ممالک کو متاثر کرتا ہے۔

مسٹر سنگھ نے حکام کو ہدایت دی کہ وزیر اعظم کی اپیل کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعظم نے عوام سے میٹرو اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال، کار پولنگ اپنانے، غیر ضروری غیر ملکی دوروں سے بچنے، گھریلو سیاحت کو فروغ دینے اور ایک سال تک غیر ضروری سونے کی خریداری سے گریز کرنے کی اپیل کی تھی، تاکہ پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم ہو اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر محفوظ رہیں۔

وزراء کے گروپ کو مطلع کیا گیا کہ جہاں دنیا کے دیگر ممالک نے گھریلو کھپت میں بھاری کٹوتی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں، وہیں ہندوستان میں کسی بھی پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس 60 دن کا خام تیل، 60 دن کی قدرتی گیس اور 45 دن کا ایل پی جی ذخیرہ دستیاب ہے۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 703 ارب ڈالر کی اطمینان بخش سطح پر ہیں۔ ہندوستان دنیا کا تیسرا بڑا تیل صاف کرنے والا ملک ہے اور پٹرولیم مصنوعات کا چوتھا بڑا برآمد کنندہ ہے، جو 150 سے زائد ممالک کو برآمدات کر رہا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اونچی سطح پر رہنے کی وجہ سے ملک کو بھاری لاگت برداشت کرنی پڑ رہی ہے، جسے ایندھن کی بچت سے کم کیا جا سکتا ہے۔

گروپ کو بتایا گیا کہ ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں عالمی عدم استحکام کے باوجود تنازع شروع ہونے کے 70 دن بعد بھی پٹرولیم قیمتیں مستحکم ہیں۔ کئی ممالک میں قیمتیں 30 سے 70 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ ہندوستان کی تیل کمپنیاں روزانہ تقریباً 1000 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہیں تاکہ عالمی قیمتوں کا بوجھ ہندوستانی شہریوں پر نہ پڑے۔ لہٰذا، کسی بھی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے اور شہریوں کو پٹرول پمپوں پر بھیڑ لگانے کی حاجت نہیں ہے۔

میٹنگ میں جے پی نڈا، ہردیپ سنگھ پوری، اشونی ویشنو، کرن ریجیجو، کے آر موہن نائیڈو، سربانند سونووال اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شرکت کی

Comments are closed.