چیف سیکرٹری نے مردم شماری2027کی تیاریوں کا جائزہ لیا

سرینگر/11مئی

چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے آج یہاں یو ٹی سطح کی مردم شماری رابطہ کمیٹی کے تیسری میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر کے اضلاع میں مردم شماری۔ 2027 کے تحت خود شماری اور گھروں کی فہرست سازی کے اِبتدائی مرحلے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
اِس موقعہ پرچیف سیکرٹری نے مردم شماری کے عمل کے دوران ڈیٹاکے اندراج میں اعلیٰ معیار کی درستگی اور قابل اعتماد یقینی بنانے کے لئے شمار کنندگان اور سپروائزروں کی جامع اور مو¿ثر تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اچھی طرح تربیت یافتہ فیلڈ عملہ پورے مردم شماری عمل کی شفافیت اور اعتبار کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار اَدا کرے گا۔
اُنہوں نے مزید ہدایت دی کہ ہاﺅس لسٹنگ بلاکس( ایچ ایل بیز) کی تشکیل اور حد بندی مردم شماری کے آغاز سے پہلے مکمل کر لیا جائے تاکہ یہ عمل بغیر کسی رُکاوٹ، مکمل اور کسی بھی قسم کی کمی سے پاک رہے۔ اُنہوں نے اضلاع اور چارج سطح پر پیش رفت کی قریبی نگرانی پر زور دیا تاکہ تاخیر سے بچا اور زمینی سطح پر مکمل تیاری یقینی بنائی جا سکے۔
اَتل ڈولونے مختلف محکموں اور شراکت داروں کو شامل کرتے ہوئے مو¿ثر اور مربوط تشہیری مہمات چلانے کی بھی ہدایت دی تاکہ شہریوں کو رضاکارانہ طور پر خود شماری کے عمل میں حصہ لینے کی ترغیب دی جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ فعال عوامی شرکت اور بیداری مردم شماری کو کامیاب اور جامع بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اُنہوںنے ضلع وار تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں اور متعلقہ افسران پر زور دیا کہ وہ باہمی تال میل، تیاریوں کی بروقت تکمیل اور وسیع عوامی رسائی کو یقینی بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ خود شماری میں حصہ لیں۔ اُنہوں نے ہاو¿س لسٹنگ مرحلے کے احسن اِنعقاد کے لئے ضلع اور چارج سطح پر مسلسل نگرانی کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔
دورانِ میٹنگ ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ شیلندر کمار نے مردم شماری کی حساس نوعیت کے پیش نظر شمار کنندگان اور سپروائزروں کی متعدد تربیتی نشستوں کے اِنعقاد پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ بالخصوص دُور دراز اور پہاڑی علاقوں میں کوئی بھی گھر ہاو¿س لسٹنگ بلاکس کی تشکیل سے باہر نہ رہے، اس کے لئے باریک بینی سے منصوبہ بندی اور زمینی تصدیق ضروری ہے۔
میٹنگ میں ڈائریکٹر مردم شماری آپریشنز جموں و کشمیر و لداخ امیت شرما نے ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی جس میں فیلڈ عملے کی تربیت، ہاو¿س لسٹنگ بلاکوں کی تشکیل، شمار کنندگان اور سپروائزروں کی تقرری، تشہیری منصوبوں، انتظامی تیاریوں اور فنڈز کے اِستعمال کا خاکہ پیش کیا۔
میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ تمام اضلاع میں فیلڈ ٹرینروں کی تربیت کے لئے 29 بیچ تشکیل دئیے گئے ہیں اور 10 مئی 2026 تک تربیت کا عمل کافی حدتک مکمل ہوچکا ہے۔ مزید یہ کہ 17 اضلاع میں شمار کنندگان اور سپروائزروں کے لئے تربیتی بیچزبھی تشکیل دے دئیے گئے ہیں جبکہ 12 اضلاع میں تربیتی پروگرام شروع ہو چکے ہیں۔
ڈائریکٹر موصوف نے مزید بتایا کہ تمام اضلاع اور میونسپل کارپوریشنوں نے مطلوبہ فیلڈ عملے کی نشاندہی کی ہے اور ان کی تقرری و سی ایم ایم ایس پورٹل پر رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ رجسٹرار جنرل و سنسس کمشنر اِنڈیا( (او آر جی آئی) نے جموں و کشمیر یو ٹی کے لئے 27,784 فیلڈ اہلکاروں کی منظوری دی ہے جن میں 23,774 شمار کنندگان اور 4,014 سپروائزر شامل ہیں جبکہ ریزرو عملہ اس کے علاوہ ہوگا۔
مزید برآں، رجسٹرڈ فیلڈ عملے کے لئے کیو آر کوڈ والے تقرری نامے اور شناختی کارڈ سی ایم ایم ایس پورٹل کے ذریعے تیار کئے جائیں گے اور تربیت مکمل ہونے کے بعد کِٹ آئٹمزکے ساتھ تقسیم کئے جائیں گے۔
میٹنگ کو ہاو¿س لسٹنگ بلاکوں کی تشکیل کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر بھر میں 24 ہزار سے زائد ایچ ایل بیز تشکیل دئیے جا چکے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ کو پہلے ہی جیو ٹیگ اور حد بند ی کردی گئی ہے۔ بعض اضلاع نے انتظامی اکائیوں میں اصلاح و اپ ڈیٹ کی درخواستیں بھی دی ہیںجنہیں جلد حل کرنے کے لئے او آر جی آئی کے ساتھ اُٹھایا گیا ہے۔
پرزنٹیشن میں خود شماری کے لئے ایک جامع تشہیری اور بیداری مہم کا بھی ذکر کیا گیا۔او آر جی آئی کی ہدایات کے مطابق اس مہم میں پرنٹ، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا کے علاوہ آو¿ٹ ڈور تشہیر، سوشل میڈیا مہم، نمائشیں، موبائل تشہیری وین، نکڑ ناٹک اور اردو، ڈوگری اور گوجری سمیت مختلف زبانوں میں عوامی بیداری پروگرام شامل ہوں گے۔
میٹنگ کو مزید بتایا گیا کہ وی وی آئی پیز کی خود شماری 17 مئی 2026 سے شروع ہوگی جو خود شماری کے پہلے دن کا آغاز ہوگا۔ اس دوران وسیع میڈیا کوریج اور عوامی بیداری پیغامات بھی نشر کئے جائیں گے۔
مختلف طبقوںکی شرکت یقینی بنانے کے لئے 15 روزہ تھیم پر مبنی خود شماری مہم کا کیلنڈر بھی تیار کیا گیا ہے جس میں منتخب نمائندے، تعلیمی ادارے، عدلیہ، مسلح و یونیفارمڈ سروسز، صنعتیں، صحت کے ادارے، خواتین کے گروپس، بزرگ شہری، میڈیا تنظیمیں اور نوجوانوں کے گروپس شامل ہوں گے۔
اضلاع کوصد فیصد خود شماری کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پنچایتی راج اداروں، کامن سروس سینٹروں، تعلیمی اداروں اور مقامی بلدیاتی اداروں کو شامل کریں تاکہ شہریوں کو بلا معاوضہ مردم شماری عمل میں سہولیت فراہم کی جا سکے۔ کئی اضلاع نے عوامی جلسوں، سکولی سرگرمیوں، مباحثوں، پریس کانفرنسوں اور گرام سبھا اعلانات کے ذریعے بیداری مہمات شروع بھی کی ہیں۔
میٹنگ میں سی ایم ایم ایس پورٹل پر انتظامی اکائیوں کی اپ ڈیٹ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک انتظامی حدود کو منجمد کیاگیا تھا، تاہم اضلاع کی جانب سے دیہات، وارڈوں اور محلوں کے ناموں کو اپ ڈیٹ کرنے کی درخواستیں اضلاع سے موصول ہوئی ہیں اور پہلے منظوری کے لئے او آر جی آئی کو جمع کی گئی ہیں۔

Comments are closed.