میری مسلسل کوشش ہے کہ پورا جموں و کشمیر تیزی سے اور جامع ترقی حاصل کرے / منوج سنہا
جموں 27 دسمبر
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ریاسی ضلع میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مکمل طور پر تباہ ہونے والے 320 گھروں کی تعمیر کیلئے بنیاد رکھی ۔
ضلع ریاسی میںحالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوئے 320 گھروں کی تعمیر کیلئے ہائی رینج رورل ڈیولپمنٹ سوسائٹی ( ایچ آر ڈی ایس ۔ انڈیا ) حکومت کے خزانے پر بغیر کسی بوجھ کے جدید پری فیبریکیٹڈ ” سمارٹ ہاوسز “ تعمیر کرنے کیلئے 32 کروڑ روپے کا فنڈ فراہم کرے گا ۔
اس سے قبل لفٹنٹ گورنر نے آپریشن سندور کے دوران پاکستانی شیلنگ اور حالیہ قدرتی آفتوں سے متاثرہ آٹھ اضلاع ( کشتواڑ ، راجوری ، پونچھ ، اودھمپور ، رام بن ، جموں ، کٹھوعہ اور سانبہ ) میں 1869 گھروں کیلئے بنیاد رکھی تھی ۔
لیفٹنٹ گورنر نے صدر ایچ آر ڈی ایس انڈیا سوامی آتمانمبی اور این جی او کے تمام اراکین کی بے لوث خدمات کی تعریف کی ۔
سنہا نے کہا کہ ایچ آر ڈی ایس انڈیا کی مدد سے ہمارا وژن یہ ہے کہ قدرتی آفت سے متاثرہ کوئی بھی خاندان کمزور اور محروم نہ رہے ۔
لیفٹنٹ گورنر نے کہا ” متاثرہ خاندانوں کیلئے گھر صرف دیواریں اور چھتیں نہیں بلکہ خوابوں اور تمناو¿ں کا مجسمہ ہیں اور خاندان کے افراد کے لئے معیاری زندگی اور ذاتی ترقی کی بنیاد ہیں ۔ میں اس تحریک کو ایک نیا انقلاب اور ملک کیلئے ایک نئے ماڈل کے طور پر دیکھتا ہوں جہاں ضرورتمند خاندانوں کی دیکھ بھال حکومت کے پیسے کے بغیر کی جا رہی ہے ۔ یہ ہمیں ایک طاقتور منتر دیتا ہے کہ سب مل کر جموں و کشمیر یو ٹی اور اس کے لوگوں کی مشترکہ بھلائی کیلئے کام کریں ۔ “
انہوں نے پچھلے چند برسوں میں شروع کئے گئے متعدد انفراسٹرکچر پروجیکٹس پر روشنی ڈالی جو ضلع ریاسی کے لوگوں کی رابطہ کاری کو بہتر بنانے اور زندگی کی آسانی میں اضافہ کرنے کا مقصد رکھتے ہیں ۔
طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کو پورا کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے یقین دہانی کرائی کہ کٹرا ٹاو¿ن کیلئے انڈر گراو¿نڈ سیوریج سسٹم کا کام اگلے چھ ماہ کے اندر شروع ہو جائے گا ۔ کٹرا کا ماسٹر پلان فی الحال آخری مراحل میں ہے اور منظوری کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انٹر موڈل سٹیشن قائم کرنے کی کوششیں بھی تیز کی جا رہی ہیں ۔
ایل جی نے شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے سی ای او اور پوری ٹیم کی لگن اور ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے دوران موثر ردِ عمل کی تعریف کی ۔
Comments are closed.