سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنا ہر طالب علم کی ذمہ داری / منوج سنہا
جموں 27 دسمبر
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے 11 ویں کانوکیشن تقریب میں شرکت کی ۔
اپنے خطاب میں لیفٹنٹ گورنر نے پرانی روٹ لرننگ سسٹم سے جدید اور ہنر پر مبنی سیکھنے کے طریقوں کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ بدلتی ہوئی دنیا کے مطالبات کو پورا کیا جا سکے ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ نصاب کا بوجھ کم کیا جائے اور مستقبل میں روز گار کیلئے موافقت پذیر ہنر تیار کئے جائیں ۔
انہوں نے کہا ” اگر کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کا ایک بھی طالب علم بے روز گار ہے یا اپنا کوئی کاروبار قائم نہیں کر رہا تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تعلیمی ادارہ اور اس کے اساتذہ نے اپنا فرض ایمانداری سے ادا نہیں کیا “ ۔
لیفٹنٹ گورنر نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ زندگی میں نئے راستے بنائیں ، زندگی کو نئی سمت دیں ، نئے پہلوو¿ں کی تلاش کریں اور قوم کی خوشحالی کیلئے نئے طریقے تجویز کریں ۔
انہوں نے کہا ” 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے ہر طالب علم اور ہر تعلیمی ادارے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہو گی کیونکہ مستقبل اور اس کی ترقی علم پر مبنی معیشت پر منحصر ہو گی ۔ “
لیفٹنٹ گورنر نے ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں اور 21 ویں صدی کی افرادی قوت کے مطالبات کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کیلئے پانچ حل پیش کئے ۔
انہوں نے کہا ” تعلیم ، سیکھنے اور یونیورسٹی کے انتظامی امور میں مصنوعی ذہانت کو مربوط کریں اور نئی ٹیکنالوجیکل ٹولز کو ترجیحی بنیاد پر اپنائیں ۔ روٹ لرننگ سے ہٹ کر زندگی بھر جاری ، لچکدار اور مہارت پر مبنی سیکھنے کے ماڈل کی طرف منتقلی کریں ۔ صنعت اور دیگر اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کریں ۔ تجرباتی سیکھنے پر توجہ مرکوز کریں ۔ خاص طور پر انسانیات ( ہیومانٹیز ) کے طلبہ کو یہ سمجھنا چاہئیے کہ مصنوعی ذہانت کے غلبے والی دنیا میں وہ چیزیں جنہیں مشینیں فراہم نہیں کر سکتیں ان کی اہمیت بڑھ جائے گی ۔ جدے ، تحقیق اور سماجی خدمت پو توجہ دیں ، جدید ترین تحقیق کریں اور مقامی مسائل کے حل پیش کریں ۔ “
Comments are closed.