ریاستی درجہ کی بحالی کے مرکز کے وعدے کی تکمیل کا وقت آگیا/ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر// جموں و کشمیر کے لئے آئینی ضمانتوں اور ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے روز جنتر منتر کے نزدیک منعقد ہونے والے مجوزہ احتجاج میں انڈیا بلاک کی تمام جماعتیں بھرپور شرکت کریں گی۔
سرنل اننت ناگ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام صرف بزنس رولز ہی نہیں بلکہ اپنے مکمل ریاستی حقوق کی بحالی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی مرکزی حکومت کا عوام کے ساتھ کیا گیا واضح وعدہ ہے، جس کا اعلان ملک اور دنیا کے سامنے کیا گیا تھا، اور اب عوام اس وعدے کی عملی تکمیل کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی تھی کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ عوام کو امید ہے کہ مرکزی حکومت اپنے اس وعدے کو جلد از جلد پورا کرے گی اور جموں و کشمیر کو اس کا جائز آئینی مقام واپس دیا جائے گا۔ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پوری دنیا امن کی خواہاں ہے اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ جنگ کا سلسلہ فوری طور پر بند ہو تاکہ بے گناہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کی وجہ سے دنیا بھر میں پیدا ہونے والی مشکلات اور مصائب کا خاتمہ ہونا چاہئے اور تمام فریقین کو امن و مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے عوام کو بھی حالیہ حالات کے باعث جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے، ہم دعا گو ہیں کہ ان کی مشکلات جلد ختم ہوں اور وہ بھی امن، استحکام اور خوشحالی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس موقع پر عالمی امن، بھائی چارے اور انسانیت کی فلاح کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو جنگوں اور تباہی سے محفوظ رکھے اور تمام خطوں میں پائیدار امن قائم ہو۔
Comments are closed.