نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں7قراردادیں منظور:جموں وکشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، لوگوں کے مسائل و مشکلات پر تبادلہ خیالات
سرینگر//نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کا دو روزہ اجلاس آج پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں اختتام پذیر ہوا۔ طول اجلاس میں پارٹی نائب صدر و وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، معاون جنرل سکریٹری اجے کمار سدھوترا، نائب وزیر اعلیٰ سریندر سنگھ چودھری، وزیرا علیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کابینہ وزراءسکینہ ایتو، جاوید احمد ڈار ، ستیش شرما، ممبرانِ پارلیمان ، میاں الطاف احمد، چودھری محمد رمضان، شمی اوبرائے، سجاد احمد کچلو، حاجی حنیفہ جان، صوبائی صدور ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، کے علاوہ ممبرانِ مجلس عاملہ اور خصوصی طور مدعو کئے گئے لیڈران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جموں و کشمیر اور لداخ کی موجودہ سیاسی اور انتظامی صورتحال، لوگوں کو درپیش مسائل ومشکلات ، پارٹی سرگرمیوں اور تنظیمی امورات کے علاوہ پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیالات کیا گیا ۔ اجلاس میں دہلی اور نوگام میں ہوئے دھماکوں میں مارے گئے افراد کی یاد میں 2منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور اُن کے لواحقین کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔اجلاس میں شرکا نے اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کے بنیادی مسائل و مشکلات، خصوصاً اقتصادی اور معاشی بدحالی اور بے روزگاری جیسے معاملات بھی اُجاگر کئے۔ شرکاءنے اجلاس کو اپنے اپنے علاقوں میں جاری پارٹی سرگرمیوں اور پارٹی پروگرواموں کے بارے میںبھی آگاہ کیا۔ صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ اپنے خطاب میں مجلس عاملہ کے ممبران پر زور دیا کہ وہ لوگوں کے ساتھ زمینی سطح پر تال میل رکھیں اور پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ماضی میں بھی بہت سارے چیلنجوں کا سامنا کیا اور ہمیشہ سروخ رو ہوکر اُبھر ہے لیکن اس کے لئے عوامی حمایت لازمی ہے۔ ہماری جماعت نے ماضی میں عظیم مالی اور جانی قربانیاں دیکر جموںوکشمیر کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کیاہے اور انشاءاللہ ہم موجودہ چیلنجوں میںبھی سروخرو ہوکر سامنے آئیں گے۔
پارٹی کی ورکنگ کمیٹی نے اجلاس میں سات قراردادیں متفقہ طور پر منظور کیں۔
قرارداد 1: خصوصی حیثیت کی بحالی کے عزم کا اعادہ
ورکنگ کمیٹی نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لئے اپنے غیر متزلزل عزم کا دوبارہ اظہار کیا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ عوام کی خواہشات اور وقار سے جڑا ہوا ہے اور اس کے حل میں تاخیر قابلِ قبول نہیں۔ پارٹی اس کی مکمل بحالی کے لئے اپنی اصولی جدوجہد جاری رکھے گی۔
قرارداد 2: ریاستی درجے کی فوری بحالی کا مطالبہ
ورکنگ کمیٹی نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرے،جیسا کہ پارلیمنٹ کے ایوان میں وعدہ کیا گیا، عوامی سطح پر بارہا دہرایا گیا، اور سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔
قرارداد 3: دہلی حملے کی شدید مذمت
ورکنگ کمیٹی نے دہلی میں ہوئے حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی۔ کمیٹی نے اس المناک واقعے میں جانیں گنوانے والے افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ مہذب معاشرے میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اور ایسے بھیانک واقعات کے مرتکبین کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی ضروری ہے۔
قرارداد 4: نوگام دھماکہ میں ذمہ داری کا تعین
ورکنگ کمیٹی نے نوگام دھماکے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار سے کسی بھی انحراف کے لئے ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہئے۔
قرارداد 5: ملک بھر میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
ورکنگ کمیٹی نے دہلی دھماکے اور نوگام دھماکے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ، تاجروں اور رہائش پذیر افراد کے ساتھ پیش آنے والے ہراسانی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے ایسے کشمیریوں کو چُن چُن کر نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر کشمیری یا جموں و کشمیر کا ہر رہائشی دہشت گرد نہیں ہوتا۔ کمیٹی نے تمام ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی جان، مال، عزت اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔
قرارداد 6: منشور پر مکمل عملدرآمد کا عزم
ورکنگ کمیٹی نے نیشنل کانفرنس کے منشور میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
قرارداد 7: عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کی مکمل حمایت کا عزم
ورکنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر عمر عبداللہ کی قیادت میں قائم حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور اس سے کہا کہ عوام کی امیدوں پر پورا اُترنے اور ان کے وقار کے تحفظ کے لئے اپنا کردار جاری رکھے۔
Comments are closed.