لیفٹنٹ گورنر نے کشمیر یونیورسٹی میں آل اِنڈیا اِنٹریونیورسٹی ووشو چمپئن شپ کا اِفتتاح کیا

سری نگر/04مئی
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے پیر کے روز کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ وہ ’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان ‘کے سفیر بنیں اور نوجوانوں کو منشیات سے دُور رہنے اور کھیلوں کو اَپنانے کی ترغیب دیں۔

لیفٹیننٹ گورنر کشمیر یونیورسٹی میں آل اِنڈیااِنٹر یونیورسٹی ووشو چمپئن شپ کی اِفتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اُنہوں نے اَپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ اِنتظامیہ اعلیٰ تعلیمی اِداروں میں مضبوط کھیل کلچر کو فروغ دینے کے لئے پُرعزم ہے اور ہر طالب علم کو فعال اور صحت مند طرزِ زِندگی گزارنے کے لئے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔

منوج سِنہانے کہا کہ آل اِنڈیا اِنٹر یونیورسٹی ووشو چمپئن شپ صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ”ایک بھارت شریشٹھ بھارت“ کے جذبے کا ایک شاندار مظہر ہے جو کثرت میں وحدت، نظم و ضبط، عمدگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔

اُنہوں نے کہا،”یہ چمپئن شپ اَپنے ساتھ کھیل کے اس بنیادی جذبے کو برقرار رکھنے اور اس کی تجدید کرنے کی ذمہ داری رکھتی ہے جو مقابلے سے بالاتر ہو کر ہمیں اِنسانی عظمت کی بلند ترین منزلوں سے جوڑتا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میںاِنٹریونیورسٹی ووشو چمپئن شپ نہ صرف شاندار مقابلوں بلکہ دوستانہ رِشتوں کے فروغ، رُکاوٹوں کے خاتمے اور ایک متحد، پُرعزم اور ہمدرد ہندوستانی فیملی کے احساس کو مضبوط کرنے کے لئے بھی یاد رکھا جائے۔ ہر کھلاڑی آنے والی نسلوں کے لئے آگے کی راہ روشن کرتا رہے۔“

لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیا کہ ووشو کی سخت تربیت نوجوانوں کی مضبوطی اور اِستقامت کی عکاسی کرتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ چمپئن شپ ثقافتی تبادلے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں حریف دوست بن جاتے ہیں اورکوچ ”ہندوستان کی آنے والی نسل“ کو سنوارتے ہیں۔

اُنہوں نے ہر کھلاڑی کی حوصلہ اَفزائی کی کہ وہ اَپنے موبائل فون پر مختصر ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پراِشتراک کریں تاکہ منشیات کے خلاف بیداری پھیلائی جا سکے اور دوسروں کو مثبت طرزِ زِندگی کے لئے کھیلوں اور تخلیقی سرگرمیوں کو اَپنانے کی ترغیب دی جا سکے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا ،”آپ ہندوستان کی نئی نسل کے لئے رول ماڈل ہیں۔ آپ کی اپیل نوجوانوں کو صحیح راستے پر چلنے کی ترغیب دے گی۔“

Comments are closed.