عمر عبداللہ کا مرکز کو چیلنج: قانون و نظم منتخب حکومت کو دیں، ناکام ہوئے تو اختیارات واپس لے لیں:وزیر اعلیٰ

سری نگر ،28نومبر

نیشنل کانفرنس کی مجلسِ عاملہ کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی، انتظامی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جب نیشنل کانفرنس کی منتخب حکومت ریاست کی باگ ڈور سنبھال رہی تھی، تب نہ پہلگام جیسا کوئی حملہ ہوا اور نہ ہی دہلی طرز کا کوئی سانحہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب حکومت کو اس کا آئینی اختیار، یعنی قانون و نظم کا کنٹرول، واپس دے۔ انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اس صلاحیت کا مظاہرہ نہ کر پائی تو مرکز اسے دوبارہ واپس لے سکتا ہے، لیکن منتخب نمائندوں کو ذمہ دار ٹھہرانے سے پہلے انہیں اختیار دینا لازمی ہے۔

عمر عبداللہ نے بجلی کی صورتحال پر بھی گفتگو کی اور واضح کیا کہ ریاست میں میٹرنگ ابھی پچاس فیصد سے بھی کم ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر گھرانے 200 مفت یونٹس والی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلیٹ ریٹ کے مقابلے میں غریب طبقے کو میٹرڈ بلنگ میں کم ادائیگی کرنا پڑتی ہے، اس لیے بہتر معیار کی بجلی سستی قیمت پر فراہم کرنے کے لیے میٹرنگ میں تیزی لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرنگ کے بغیر یہ ممکن نہیں کہ ہر گھرانے کو 200 مفت یونٹ بجلی فراہم کی جائے۔

ریزرویشن سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کابینہ سب کمیٹی کی رپورٹ مکمل ہو چکی ہے اور اسے آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی ضابطۂ اخلاق نے اس عمل میں تاخیر پیدا کی، تاہم اب اس پر فیصلہ اگلی میٹنگ میں لیا جائے گا۔ ڈیلی ویجر ملازمین کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے ان طبقات کو برسوں تک نظر انداز کیا، لیکن موجودہ حکومت ان کے دیرینہ مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

عمر عبداللہ نے پی ڈی پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعت آج منشور کی بات کرتی ہے، وہ خود 2014 میں عوام سے سب سے بڑا دھوکہ کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے اُس وقت بی جے پی کے خلاف ووٹ مانگے اور بعد میں انہی کے ساتھ حکومت بنا لی، لیکن نیشنل کانفرنس نے اپنے وعدے نبھاتے ہوئے بی جے پی کو دور رکھا اور اسمبلی و کابینہ میں عوامی مفادات کے لیے مؤثر قراردادیں منظور کیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے کام کا جائزہ پانچ مہینوں میں نہیں بلکہ پانچ برس کی مدت مکمل ہونے کے بعد لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی اپنے وعدے فراموش نہیں کیے، اور عوامی اعتماد پر قائم رہتے ہوئے ایک ایک وعدے کو مرحلہ وار پورا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کا فیصلہ مدت کار کے اختتام پر کریں، نہ کہ مختصر عرصے کی بنیاد پر

Comments are closed.