منتخب حکومت کو بدنام اور ذلیل کرنے کی بہت بڑی سازش رچائی جارہی ہے: عمر عبداللہ
سری نگر ،28 نومبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز الزام عائد کیا کہ راج بھون کی جانب سے تعینات کردہ کچھ افسران حکومتی منظوری اور وزارتی اجازت کے بغیر من مانے انداز میں بلڈوزر کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف انتظامی اصولوں کی خلاف ورزی بلکہ منتخب عوامی حکومت کو بدنام اور کمزور کرنے کی ایک منظم سازش کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ترقیاتی اداروں، بالخصوص ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے اہم عہدوں پر ہونے والی تقرریاں منتخب حکومت سے مشاورت کے بغیر کی گئی ہیں، جس کے باعث موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے کمشنر سکریٹری اور پرنسپل سکریٹری آپ لگائیں، لیکن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او جیسے فیلڈ افسران کی تقرری کا اختیار منتخب حکومت کے پاس ہونا چاہئے۔ افسوس کہ ان پوسٹوں پر افسران بنا ہم سے بات کئے لگائے جاتے ہیں اور پھر وہ کہیں اور سے ڈکٹیشن حاصل کرکے کارروائیاں شروع کرتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں میں حالیہ بلڈوزر کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں میں صرف ایک ہی مکان کو غیر قانونی کہہ کر گرایا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پوری جے ڈی اے کی زمین پر ناجائز قبضوں کی متعدد شکایات موجود ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر صرف ایک ہی فرد کو کیوں ٹارگیٹ کیا گیا اور کیا اس شخص کے مذہب کا کردار اس کارروائی کے پیچھے کارفرما تھا؟
عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے جے ڈی اے سے فوری طور پر پوری لسٹ طلب کی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ناجائز قبضوں کا دائرہ صرف ’ایک گھر‘ تک محدود تھا یا پھر کارروائی جان بوجھ کر ایک مخصوص فرد کے خلاف انجام دی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر واقعی حکومت کے کام میں کوئی مداخلت نہیں، جیسا کہ بعض حلقے دعویٰ کرتے ہیں، تو پھر بلڈوزر کارروائی سے متعلق فائلیں، اجازت نامے اور وزرا کی سطح پر ہونے والی مشاورت دکھائی جائے۔
انہوں نے واضح کیا:’اگر ہمارا لگایا ہوا آفیسر ایسا کام کرتا تو میں فوراً اس کے خلاف کارروائی کرتا۔ لیکن یہاں تو ہمیں نہ اعتماد میں لیا جاتا ہے، نہ کوئی فائل دکھائی جاتی ہے۔ لگاتار ہو رہی ایسی کارروائیوں سے سازش کی بو آ رہی ہیں۔ الیکشن نتائج کو کچھ لوگ ہضم نہیں کر پا رہے، اس لیے حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کسی بھی صورت میں غیر قانونی قبضہ برداشت نہیں کرتی، لیکن کارروائی کا طریقہ کار شفاف، منصفانہ اور یکساں ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ قبضہ ہٹانا ضروری ہے لیکن کسی مخصوص شخص یا برادری کو نشانہ بنا کر کارروائی کرنا بالکل غلط ہے۔ اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو جے ڈی اے کے تمام غیر قانونی قبضوں کی پوری لسٹ منظر عام پر لائیں۔
انہوں نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بے خوف اور غیر جانبدار ہیں تو تمام غیر قانونی تعمیرات کی فہرست عوام کے سامنے رکھیں۔
عمر عبداللہ کا مؤقف ہے کہ اگر انتظامیہ منتخب حکومت کی مشاورت کے بغیر کارروائیاں کرتی ہے تو یہ براہِ راست عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ اگر ایک بار ہوتا تو اسے غلطی سمجھا جا سکتا تھا لیکن مسلسل ایسی یکطرفہ کارروائیاں ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ محسوس ہو رہی ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ حکومت نے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور غلط طریقے سے کی گئی کارروائیوں کو روکنے کے لیے آئندہ سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
Comments are closed.