خاتون جنت کے یوم انتقال پر مسجدوں ،خانقاہوں اور امام باڑوں میں تقاریب کا اہتمام علماء نے فاطمتہ الزہرہ کی زندگی پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی
سرینگر /30مئی/ خاتون جنت کا سالانہ عرس ریاست جموں و کشمیر میں بھی نہایت ہی عقیدت و احترام تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا ،مسجدوں ،خانقاہوں اور امام باڑوں میں علماء نے حضرت فاطمتہ زہرہ ؒ کی سیرت پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے خواتین پر زور دیا کہ وہ خاتون جنت کے اسوہ حسنہ کو اپنا کر دنیا و آخرت میں سرخ روئی حاصل کریں ۔ اے پی آئی کے مطابق خاتون جنت فاطمہ ۃالزہرہؓ ؒ کا یوم انتقال دنیا بھر کی طرح ریاست جموں و کشمیر میں بھی عقیدت و احترام ،تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا ،درگاہوں ،مسجدوں ،خانقاہوں ، امام باڑوں میں بڑے بڑے اجتماعات ہوئے جہاں علماء نے خاتون جنت اور امت کی ماں کی زندگی پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتے ہوئے خواتین پر زور دیا کہ وہ سردار جنت خاتون حضر ت فاطمتہ الزہر ہ ؓ کے اسوہ حسنہ کو اپنا کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے تاکہ دنیا میں انہیں سکون اور آخرت میں انہیں سرخ روئے حاصل ہو سکے ۔ علما ء نے کہا کہ حضرت فاطمتہ الزہرہ رسول اللہؐکی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ خاتون جنت بھی ہیں اور انہیں رسول اللہ ؐ نے یہ بشارت بھی دی ہے کہ وہ جنت میں خواتین کی سردار ہوگی ۔ علماء کہا کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرما یا ہے کہ جس نے فاطمہ کے ساتھ محبت کی اس نے میرے ساتھ محبت کی اور جس نے فاطمہ کو تکلیف پہنچا نے کی کوشش کی اس نے امت کو دکھ پہنچا یا ۔ علماء نے کہا کہ رسول ؐ خود فاطمہ الزہرہ ؓ سے بہت زیادہ پیار کیا کرتے تھے اور رسول اللہ ؐ نے ہمیشہ فاطمہ الزہرہ ؓ کو تلقین کی کہ وہ اپنے ہمسائیوں کا خاص خیال رکھیں ۔ علماء نے بڑھتی ہوئی بے حیائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماں ،بیٹی یا بیوی مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کرتی ہے لیکن عمل اور علم کے لحاظ سے مسلمانیت کی ان سے بو نہیں آرہی ہے ۔ سماج میں خواتین کا جو رول ہونا چاہیے تھا جس پر امت کو ناز ہونا چاہیے تھا خواتین اب وہ رول ادا نہیں کر رہی ہیں ،کوئی فاطمہ کا کردار ،عائشہ کی محبت اور خدیجہ الکبرہ کی سخاوت کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ علما ء نے کہا کہ مسلمان خواتین نے غیر قوموں کا لباس ،ان کی زبان ، ان کے حرکات و سکنا ت کو اپنی زندگی میں شامل کیا ہے اور اسے جدید یت اور ترقی کا دور کہا جا تا ہے ۔علما ء نے کہا کہ اس طریقہ کار سے نارِ جہنم سے کوئی بچا نہیں پائیگا ۔ نار جہنم سے نجات حاصل کرنے کیلئے فاطمہ کا کردار ،خدیجہ کی آسودگی اور عائشہ کی محبت اختیار کرنا ہو گا تاکہ سماج میں پنپ رہی جو غلطیاں ہے انہیں دور کیا جا سکے اور امت کی خواتین مثالی کردار کی مالک بن سکیں گی ۔
Comments are closed.