بھارت تین دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں رکھتے ہیں کسی سے مدد کی ضرورت نہیں /وزیراعظم

سرینگر /30مئی/ دہشت گردی کو امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے مشترکہ طور پر اقدامات اٹھا ئے ،بھارت دہشت گردی کے خلاف گذشتہ تین دہائیوں سے برسر پیکار ہے اور کئی ملکوں کی زمین بھارت مخالف سرگرمیوں کیلئے اب بھی استعما ل ہو رہی ہے ۔ بھارت دنیا میں معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آر ہا ہے ہم اپنے مسائل حل کرنے کے اہل ہیں اور اس سلسلے میں کسی کی مداخلت کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ ا ے پی آئی کے مطابق جرمنی سے شائع ہونے والے ایک اخبار کو انٹر ویو دیتے ہوئے وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے دہشت گردی کو امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہو گی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت تین دہائیوں سے دہشت گردی سے نپٹ رہا ہے جبکہ ہمسایہ ملک کی سرزمین بھار ت مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال کی جا رہی ہے اور بھارت نے دنیا کے سامنے کئی بار ثبوت پیش کئے کہ کس طرح بھارت کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کے اقدامات اٹھا ئے جا رہے ہیں ۔ وزیر اعظیم نے کہا کہ خطے میں مسائل ہیں اور بھارت اپنے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سلسلے میں کسی ملک کی مدد بھی نہیں حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ وزیر اعظم نے اگر چہ مسائل کی طرف اشارہ نہیں کیا تاہم ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ مسائل دیریانہ اور پیچیدہ بھی ہیں جن کے حل کیلئے اقدامات اٹھا نے کی اشد ضرورت ہے اور اس سلسلے میں بھارت اپنے وسائل بروئے کار لا کر رہے گا ۔ بین الاقوامی برادری کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بھی بہتر تعلقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے کثرت میں وحدت والا ملک ہے ،بھارت کی سرحدیں کئی ملکوں کے ساتھ ملتی ہیں اور ہم ہر ایک ملک کا عزت و احترام کرتے ہیں ۔ رمضان المبارک کے موقعے پر مسلمانوں کو مبارکباد دینے اور دوسری جانب گاؤ رکھشک کی آڑ میں اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے پہلے ہی ایسے عناصر کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی کاررورائیوں سے باز آجائیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جہاں کئی بھی گاؤ رکھشک کی آڑ میں اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے قانون حرکت میں آئیں گا اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں عمل میں لانے میں کوئی پرہیز نہیں کیا جائیگا ۔

Comments are closed.