عسکریت کے خلاف آپریشن کے بعد مزاحمتی قیادت اور اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ بات چیت کے امکانات اگست کے وسط سے بھارت پاکستان کے مابین مذاکرات ہونے کی امیدیں /ذرائع

سرینگر /30مئی/اے پی آئی/ عسکریت کے خلاف بڑ ے پیمانے پر آنے والے دنوں کے دوران فوج اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے آپریشن شروع کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ریاستی حکومت سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،مرکزی حکومت عسکریت کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن ختم ہونے کے بعد مزاحمتی قیادت اور دوسرے اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ لے سکتی ہے ۔ اے پی آئی کے مطابق فوج اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے ریاست خاصکر وادی کشمیر میں آنے والے دنوں کے دوران بڑے پیمانے پر فوج اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے مشترکہ طور پر آپریشن شروع کئے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو آپریشن شروع کرنے کے خدوخال پیش کئے گئے ہیںاور وزیر اعلیٰ جو کہ یونیفائیڈ کمانڈ کونسل کی چیئر پرسن بھی ہے کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد جموں و کشمیر پولیس ،فوج اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن شروع کیا جا رہا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزارت دفاع نے شمالی کشمیر میں 7،جنوبی کشمیر میں 4اور وسطی کشمیرمیں 3بڑے جنگلوں میں بیک وقت آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حدمتارکہ کے اردگرد گھنے جنگلوں میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جائے ۔ ذرائع کے مطابق فوج اور نیم فوجی دستوں نے جنوبی ،شمالی اور وسطی کشمیر کے کئی علاقوں کو سرخ نشانے پر رکھا ہے جہاں خفیہ اداروں کے مطابق عسکریت پسندوں کی کمین گاہیں اور ان کے چھپنے کی جگہیں ہیں اور ا ن علاقوں میں مرحلہ وار طریقے سے آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ عسکریت پسندوں کو فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے جبکہ عسکریت پسندوںسے نمٹتے وقت لوگوں کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے نئی حکمت عملی اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اگر چہ اس حکمت عملی کو ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا گیا تاہم دفاعی ذرائع کے مطابق اس نئے طریقہ کار سے نہ تو عام شہریوں کو کسی قسم کی گزند نہیں پہنچے گی اور نہ ہی لوگوں کو عسکریت پسندوں سے نمٹتے وقت رخنہ ڈالنے کا کوء موقعہ فراہم ہو گا ۔ ذرائع کے مطابق عسکریت کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنوں کے بعد مرکزی حکومت علیحدگی پسند سمیت دوسرے اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے بات چیت کر سکتی ہے جبکہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اگست کے وسط سے بھارت پاکستان کے مابین مذاکرات بھی شروع ہو سکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے عسکریت کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کرنے کے پروگرام کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے اور ریاستی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد اس سلسلے میں موثر اقدامات اٹھا ئے جانے کے امکانات ہے ۔

Comments are closed.