وادی کی پہلی اور معتبر خبررساں ایجنسی کے پی ایس مجوزہ اسمبلی اجلاس کی رپورٹنگ نہیں کر پائے گی

وادی کی پہلی اور معتبر خبررساں ایجنسی کے پی ایس
مجوزہ اسمبلی اجلاس کی رپورٹنگ نہیں کر پائے گی
سرینگر//22اکتوبر/ کے پی ایس / کشمیر کی معتبر خبر رساں ایجنسی کشمیر پریس سروس (کے پی ایس ) جسے وادی کی ابتدائی تیسری نمبر کی مقامی نیوز ایجنسی ہونے کا بھی امتیاز حاصل ہے ،کو اس بار قانون ساز اسمبلی کے مجوزہ اجلاس کی رپورٹنگ کرنے سے محروم کردیا گیا ہے ۔محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ جموں وکشمیر جسے اسمبلی اجلاس کی کوریج کیلئے میڈیا ارکان کو اجازت نامے (پاس وغیرہ ) دستیاب کرنے کی ذمہ داری ہے ،ننے نامعلوم وجوہات کی بنا پر کشمیر پریس سروس (کے پی ایس ) ادارے کو نظر انداز کردیا ہے ۔ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کئی دہائیوں سے میڈیا سیکٹر میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی معتبر نیوز ایجنسی کو اسمبلی اجلاس کی رپورٹ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔اس لئے تمام قارئین سے ادارہ کے پی ایس کی طرف سے اطلاع دی جاتی ہے کہ اس بار کے پی ایس کے ذریعے اسمبلی اجلاس کی بروقت اور معتبر رپورٹنگ ممکن نہیں ہوپائے گی جس کیلئے ادارہ اپنے قارئین اور سبسکرائبرس سے معذرت خواہ ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر پریس سروس (کے پی ایس ) 1984سے خبریں اور رپورٹیں سرکیولیٹ کرتی آئی ہے جبکہ اس سے قبل مقامی سطح پر JAKنیوز ایجنسی (جموں وکشمیر نیوز)جو کہ مرحوم حاجی یوسف قادری نے اپنی ادارت میں چلائی نیز NFK(نیوز اینڈ فیچر کشمیر)نیوز ایجنسی جو مرحوم مقبول حسین نے قائم تھی تاہم جے اے کے اور این ایف کے (نیوز فیچر آف کشمیر) چند برسوں تک سرگرم رہنے کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر 90کی دہائی شروع ہوتے ہی بند ہوگئیں۔اس دوران کشمیر پریس سروس خبریں اور رپوڑتس بہم پہنچانے کا واحدادارہ بنا رہا جو اب تک میڈیا شعبے میں خدمات انجام د ے رہا ہے ۔اس وقت اسمبلی اجلاس کی رپورٹنگ سے اسے روکنا عوامی سطح پرمایو س کن قرار دیا جائے گا جنہیں اپنی معتبر نیوز ایجنسی یعنی کے پی ایس کی خبریں اور تجزیے او ررپورٹس سے بہرور ہونے کی عادت ہے ۔

Comments are closed.