ہند پاک سرحدوں پر کشیدگی کا ماحول بدستور جاری ، تیسر ے روز کھٹوعہ میں فائرنگ

سرحدی آبادی خوف کے سائے میں ، زیر زمین تعمیر کئے گئے بینکروں میں پنا ہ لینے پر مجبور

سرینگر/08نومبر: ہند پاک کے مابین کشیدگی کے چلتے سرحدوں پر بھی تنائو کا ماحول بدستور جاری ہے ۔اتوارکو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سرحد پر کھٹوعہ سیکٹر میں میں ہند پاک افواج کے مابین آمنا سامنا ہوا جس دوران دونوں ممالک کے افواج نے ایک دوسرے کی کو نشانہ بنا کر فائرنگ اور شلنگ کی ۔ادھر سرحدی آباد سماعت شکن دھماکوں کی آوازوں سے خوفزدہ ہوگئیں ۔دفاعی ترجمان نے ایک بار پھر پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ادھر سرحدوں پر مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں سرحدی آبادی خوف و دہشت میں مبتلا ہو چکی ہے اور وہ زیر زمین تعمیر کئے گئے بینکروں میں پنا ہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہندوپاک سرحدوں پر کشیدگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔اتوار کی صبح بین الاقوامی سرحد پر کھٹوعہ سیکٹر میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی کا ماحول دیکھنے کو ملا ۔حکام نے بتایا کہ جنگ بندی معاہدے کیخلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے بھارتی چوکیوںکو نشانہ بنا کر گولی باری کی۔حکام نے مزید کہا کہ بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف ) ہلکاروں نے پاکستانی رینجرس کی فائرنگ کا ’’موثر‘‘ جواب دیا۔حکام کے مطابق کراس فائرنگ کا یہ واقعہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں جانب جدید جنگی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے سماعت شکن آوازوں کی وجہ سے سرحدی آبادی میں سخت خوف و دہشت پھیل گئی اور لوگ محفوظ جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ۔ دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری اور دوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیںہوئی ۔ادھر سرحدو ں پر جاری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوںکے نتیجے میں سرحدی آبادی خوف و دہشت کے ماحول میں زندگی بسر کر رہی ہے اور وہ زیر زمین تعمیر کئے گئے بینکروں میں پنا ہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں ، قابل ذکر ہے کہ سال رواں کے دوران اب تک بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر طرفین کے مابین گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کے زائد از دو ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں۔طرفین کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے اور گذشتہ کچھ ماہ سے جاری کورونا وبا کے با وصف بھی سرحدیں لگاتار گرم ہیں جس سے آر پار کی سرحدی بستیوں کے لوگوں کا جینا مزید مشکل بن گیا ہے۔

Comments are closed.