کنزر میں ڈاکٹر نے ایک تیمار دار کومبینہ طور پر ماری تھپڑ

بی ایم او نے معاملے کے حوالے سے ایکشن لینا کا یقین دلایا

سرینگر/17اکتوبر: شمالی کشمیر کے کنزر ٹنگمرگ میں ڈاکٹر نے مبینہ طور پر ایک تیمار دار کے گال پر اُس وقت بلا وجہ تھپڑ رسید کردی جب وہ اپنے رشتہ دار کا ایکسرے لیکر ڈاکٹر کے پاس گیا جو کہ ایک سڑک حادثے میں زخمی ہوا تھا ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق لالپورا کنزر ٹنگمرگ میں آج سڑک کے ایک حادثے میں ایک شخص عاشق احمد خواجہ سڑک کے ایک حادثے میں زخمی ہوا جس کو فوری طور پر پرائمری ہیلتھ سنٹر کنزر پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروںنے اس کا علاج و معالجہ شروع کیا ۔ اس دوران زخمی عاشق احمد کو ڈاکٹر نے ایکسرے کرنے کا مشورہ دیا اور جب ایکسرے دکھانے کیلئے اس کا ایک رشتہ دار منیر احمد جب ایکسرے لیکر واپس گیا تو کمرے میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا جس کے بعد منیر احمد باہر چلا گیا جہاں پر ڈاکٹر اقبال اپنی گاڑی میں سوار تھا کہ منیر احمد نے اس کو ایکسرے دکھایا ۔ منیر کے مطابق ڈاکٹر نے اس کا ایکسرے سڑک پر پھینک دیا اور ایک زور دار تھپڑ رسید کردی ۔ اس واقعے پر وہاں موجود لوگوں نے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے مذکورہ ڈاکٹر کے اس روئے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک ڈاکٹر اسطرح کا رویہ اختیار کرے گا تو مریض کس کے پاس جائیں گے ۔ اس دوران جب بلاک میڈیکل افسر ڈاکٹر رقیہ سے اس بارے میں بات کی گئی تو انہوںنے وہ معاملے کے حوالے سے جانکاری حاصل کریں گی اور اگر ڈاکٹر قصور وار ہوگا تو ضابطے کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔

Comments are closed.