مانسبل جھیل کے ارد گر ناجائز طریقے سے تعمیراتی ڈھانچوں کو بھر مار ،جھیل کی خوبصورتی ماند پڑگئی
مکینوں کی باز آبادی کاری اور آبادی کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا پروگرام کھٹائی میں
سرینگر: مانسبل جھیل کے ارد گرد ناجائز تجاوزات کے نتیجے میں جھیل کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے جبکہ متعلقہ محکمہ نے جھیل کے آس پاس مکینوں کی باز آبا د کاری سکیم کے تحت آس پاس کے علاقوں کو خالی کرانے کا پروگرام بنایا تھا تاہم آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے ۔ ادھر مانسبل جھیل میںآس پاس کے علاقوں سے نکلنے والی تمام گندگی جھیل میں چلی جاتی ہے جبکہ زہریلی گھاس پھوس اور پالتھین لفافوں کی وجہ سے جھیل کا پانی کافی آلودہ ہوچکا ہے جبکہ متعلقہ محکمہ مشینوں کا استعمال کر کے آگے نظر آنے والے حصے میں دکھاوی کی صفائی کرتا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق شہر آفاق مانسبل جھیل کے ارد گرد ناجائز تجاوزات کی بھرمارہ ہونے کے نتیجے میں جھیل کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے ۔ جھیل کے ارد گردہ اگرچہ دیوار بند کی گئی ہے تاہم جھیل کے ایک بڑے حصے پر آج بھی غیر قانونی طور پر مکانات اور دیگر ڈھانچے تعمیر کئے جاچکے ہیں ۔ مقامی لوگوں کے مطابق جھیل کے ارد گرد رہنے والے مکینوں کو وہاں سے ہٹانے اور دوسری جگہ منتقل کرنے کیلئے سرکار نے اگرچہ پروگرام بنایا تھا لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے جس کے نتیجے میں جھیل کے ارد گرد مزید ڈھانچے تعمیر ہورہے ہیں ۔ ادھر مانسبل جھیل کو ایک طرف مانسبل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے دعوے کئے جارہے ہیں کہ اس پر سالانہ لاکھوں روپے خرچ کرکے اس کو جاذب نظر بنایا جاتا ہے تاہم زمینی سطح پر ان کے دعوے کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں ۔ جھیل میں زہریلی گھاس پھوس اُگ جانے سے ایک طور اس گرمی کے ماسم میں سخت بدبو پھیل جاتی ہے دوسری جانب جھیل میں کوڑا کرکٹ اور پالتھین لفافوں کے انبار دکھائی دیتے ہیں جس نے جھیل کے پانی کو کافی نقصان پہنچایا ہے ۔ اس کے علاوہ جھیل میں پائے جانے والے جانور خاص کر مچھلیوں کی پیداوار میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے ۔ سی این آئی نمائندے کے مطابق کوندہ بل علاقے کے حدود میں آنے والے جھیل کے سائڈ گھاس پھوس اور پالتھین لفافوں کے علاوہ جھیل کے اندر کافی کوڑا کرکٹ جمع ہے جس نے وہاں پائے جانے والے ’’ندرو ‘‘ کی فصل کو مکمل طور پر تباہ کیا ہے۔اس حوالے سے مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ محکمہ مانسبل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اگرچہ جھیل کی صفائی اور اس کو جاذب نظر بنانے کیلئے لاکھوں روپے سالانہ خرچ کرتے ہیں تاہم کوندہ بل کے علاقے میں آنے والے جھیل کے حصے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ محکمہ نے جھیل کی صفائی کیلئے جو مشینیں لگائی ہیں ان کو صرف مانسبل کے آگے والے حصے کیلئے ہی مخصوص رکھا گیا ہے ۔ لوگوں کے مطابق جھیل میں گھاس پھوس اور پالتھین کے زہریلے مواد سے پانی کافی آلودہ ہوچکا ہے ۔ انہوںنے اس حوالے سے گورنر کے مشیر اور سیکریٹری گورنر سے مود بانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس ضمن میں ذاتی دلچسپی لیکر اس جھیل کے وجود کو بچائیں ۔
Comments are closed.