اردو زبان وادب کی ترویج اور ترقی کیلئے جموں وکشمیر بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن کی شاخ کا قیام
ویبنار میں نوجوان اسکالروں نے مقالات پیش کئے ،منتظمین ومعززین نے خیالات کا کیا اظہار
سرینگر /16اکتوبر / کے پی ایس : جموں وکشمیر بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن کی شاخ کا قیام عمل میں لانے کے بعد 15اکتوبر 2020کو ایک آن لائن پروگرام انعقاد کیا گیا جس میں جموں وکشمیر کے نوجوان ریسرچ اسکالروں نے مختلف اصناف پر مقالات پیش کرکے اردو زبان کے شعراء اور ادیبوں بشمول افسانہ نگاروں و ڈرامہ نویسوں کی صلاحیتوں اور ادب کے تئیں ان کی خدمات کو اجاگر کیا جبکہ پروگرام میں بین االاقوامی سطح کے معزز اسکالروں ،محققین اور محبان اردو نے ان مقالات پر تبصرہ کیا اورار دو کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنے زرین خیالات کا اظہار کیا ۔ کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق جموں وکشمیر شاخ کا افتتاحی اجلاس میں معروف نقادپروفیسر قدوس جاوید نے صدارت کی جبکہ معروف اسکالر پروفیسر عارفہ بشریٰ نے بطور مہمان خصوصی کے شرکت کی اور عارف نقوی مہمان اعزازی ،خالد حسین نے مہمان ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کرکے پروگرام کو رونق بخشی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر اختر حسین نے انجام دئے۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز نعت بحضور سرور کائناتؐ سے ہوا جس کی سعادت ڈاکٹر غلام جیلانی نے حاصل کی۔بعد ازاں خطبہ استقبالیہ پروفیسر ریاض احمد نے پیش کیا جبکہ انجمن کے اغراض و مقاصد کے بارے میں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے مختصر تعارف پیش کیا ۔اجلاس میں ریاست جموں و کشمیرسے تعلق رکھنے والے ریسرچ اسکالرس نے ’’جموں کشمیر کے زبان و ادب‘‘ کے تعلق سے متنوع موضوعات کے تحت اپنے مقالات پیش کئے۔ اجلاس میں جن نوجوان اسکالرز نے جموں وکشمیر اردو ادب کی سمت و رفتار پراپنے مقالات پیش کئے’۔ان میں محمد یونس ٹھوکر(کنوینر، ریسرچ اسکالرس کشمیر)، ڈاکٹر الطاف احمد میر، پیرزادہ ارشاد احمد، ڈاکٹر اویس احمد بٹ، جاوید احمد شاہ، زمرود ہ محمد، شبیر احمد مصباحی، محمد اقبال لون، زاہد ظفر، داکٹر مول راج، جاوید رسول، ریاض احمد کماراور ڈاکٹر جے وردھن وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ پروگرام میں کئی اہم شخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔صدر اجلاس پروفیسر قدوس جاوید نے انجمن کے اقدامات کو سراہتے ہوئے نوجوان اسکالرز کو تنقید اور تھیوری کے جدید تصورات کو سمجھنے پر بھی زور دیا۔ پروفیسر عارفہ بشری نے جموں وکشمیر میں اردو ادب کی مجموعی صورتحال پر معلومات افزا روشنی ڈالی۔معروف صحافی ناظم نذیر(مدیر اعلی تعمیل ارشاد) نے اپنے تاثرات میں انجمن کے مقاصد کو سراہتے ہوئے انجمن اور اردو زبان کے فروغ کے لئے اخبار کی معاونت کا بھی اظہار کیا۔ پروگرام کا استقبالیہ ممتاز استادپروفیسر ریاض احمد نے پیش کیا جبکہ پروگرام کے آخر پر معروف نقاد ‘افسانہ نگار اور اقبال شناس ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری نے شاندار الفاظ میں زعمائے انجمن ،صدور صاحبان، شرکاء اور مقالہ نگاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محققین اور اسکالرنئی نسل کیلئے مشعل راہ ہیں اور انہوں نے اپنا قیمتی وقت دیکر ہمیں اپنے زرین مشاہدات اورتجربات سے نوازا۔جبکہ نوجوان اسکالرس نے اپنے مقالات میں اردو کے تئیں جموں وکشمیر کے افسانہ نگاروں ،شعراء اور ادباء کی خدمات کو اجاگر کیا اور ان کو اپنے ریسرچ کا آئیڈئیل بنانے پر اتفاق کا اظہار کیا ۔واضح رہے بین الاقوامی اردو اسکالرز انجمن کا قیام مورخہ 10اگسث 2020عمل میں لایا گیا تھا۔یہ ایک عالم گیر تنظیم ہے جس کامقصد مقامی سطح سے لیکر فروغ اردو و زبان ادب کے ساتھ ساتھ اردو نوجوان اسکالرز کو عالمی سطح کا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے اور انہیں بین الاقوامی سطح پر اپنی فنی و تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور جلا بخشنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ابھی تک کئی ریاستوں کی شاخوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گزشتہ چندمہینوں میں انجمن اردو اسکالرز اور محبان اردو کو صحیح سمت اور رہنمائی کے لیے صدر انجمن عارف نقوی(جرمنی)اورشعبہ اردو میرٹھ یونیورسٹی کے صدر پروفیسر اسلم جمشید پوری کی مسلسل کاوشوں سے انجمن کی ملکی اور عالمی شاخوں کے قیام کا سلسلہ جاری ہے۔اس سلسلے کی ایک کڑی کے تحت15اکتوبر2020 کو ایک شاندار ویبنار میں جمون وکشمیر نوجوان اسکالرز کی شاخ کا افتتاح زیر سرپرستی عارف نقوی’پروفیسر اسلم جمشید پوری’پروفیسر ریاض احمد(کوارڈنیٹرجموں) اور ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری (کوارڈنیٹرکشمیر) ہوا۔یاد رہے کہ اجلاس کا آغاز سہ پہر تین بجے ہوا اوشام چھ بجے اختتام پذیر ہوا ۔
Comments are closed.