گاندربل میں سرینگر کے دو لڑکے نہانے کے دوران غرقآب

پولیس اور مقامی غوطہ خوروں کی ٹیم بچوں کو پانی سے نکالنے کیلئے کوشاں

سرینگر/05جولائی: گاندربل میں سندھ نالہ میں نہانے کے دوران دو لڑکے غرقآب ہوچکے ہیں ۔ لڑکوں کی تلاش کیلئے پولیس اور مقامی غوطہ خوروںنے کارروائی شروع کی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کچہ پورہ کنگن میں سندھ نالہ میں نہانے کے دوران دو لڑکے غرقآب ہوچکے ہیں ۔لڑکوں کی غرقآبی کی خبر ملتے ہی پولیس اور مقامی غوطہ خوروں نے لڑکوںکو دریائے سندھ سے نکالنے کیلئے آپریشن شروع کردیا ہے تاہم آخری اطلاع ملنے تک ان کی کوئی خبر نہیں تھی۔ یاد رہے کہ وادی میں گزشتہ ماہ سے غرقآبی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ چھوٹے بچے اور لڑکے گرمی سے بچنے کیلئے ندی نالوں اور دریائوں میں نہانے جاتے ہیں جہاں پر حادثاتی طور پر کوئی کوئی پانی میں ڈوب جاتا ہے اور گزشتہ 50روز سے وادی کے مختلف علاقوں سے کم سے کم 15بچے غرقآب ہوچکے ہیں ۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بہرام پورہ سوپور میںواٹر فال میں ایک کم عمر لڑکی ڈوب کر لقمہ اجل بن گئی جبکہ 28مئی کو وسطی ضلع گاندربل کے کنگن قصبہ میں ایک 3سالہ بچہ پانی میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیاذرائع کے مطابق ، کنگن میں وانگاتھ کے قریب لڑکا ، عرفان احمد کھٹانا ولد شوکت احمد کھٹانہ نالہ میں اُس وقت دوب گیا جب اس کا پیر پھسل گیا اور وہ پانی کے تیز بہائو کے ساتھ ہی بہہ گیا ۔ اس دوران بچے کی نعش کو ڈھونڈنے کیلئے مقامی غوطہ خور اور پولیس کی ٹیم سرگرم ہوچکی ہے اورپانی سے نعش کونکالنے کیلئے کارروائی شروع کی گئی ہے تاہم آخری اطلاع ملنے تک بچے کی نعش کو برآمد نہیں کیا گیا تھا ۔ یاد رہے کہ رواں ماہ میں یہ غرقآبی کایہ تیسرا واقع ہے اس سے پہلے 18مئی کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے میں ایک 14سالہ لڑکا عاقب احمد شیخ ولد فیاض احدم شیخ ساکنہ ارکمو کوکرناگ نزدیکی نالہ میں نہانے کے دوران ڈوب گیا۔ اسی طرح وادی کے مختلف علاقوں میں غرقآبی کے واقعات رونماء ہوتے رہے اورگزشتہ 50دنوں میں قریب 15سے زائد بچے غرقآب ہوچکے ہیں ۔

Comments are closed.