ویڈیو:کولگام کے آرہ علاقے میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے مابین مسلح تصادم آرائی ، دو جنگجو جاںبحق ، آپریشن جاری
طرفین کے مابین گولی باری میں جونیئر کمیشنڈ افسرسمیت تین فوجی اہلکار زخمی ، علاقے میں پُر تشدد جھڑپیں
سرینگر/04جولائی/سی این آئی// وادی کے شمال و جنوب میں جنگجو مخالف آپریشنوں میں تیزی کے بیچ جنوبی ضلع کولگام کے آرہ نامی گائوں میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے مابین جھڑپ میں دو عدم شناخت جنگجو جاںبحق ہو گئے جبکہ طرفین کے مابین گولیوںکے تبادلے میں جونیئر کمیشنڈ افسر (جے سی او) سمیت دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔پولیس کے ایک سنیئر افسر نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے ۔ادھر جھڑپ کے مقام پر فورسز اور نوجوانوں کے مابین پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئی ۔ سی این آئی کے مطابق کولگام کے آرہ موہن پورہ علاقے میں دو سے تین جنگجوئوںکی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج کی34 آر آر، سی آر پی ایف اور پولیس کی ایک ٹیم مشترکہ پارٹی نے علاقے کو سنیچروار کے دوپہر علاقے کو محاصرہ میں لیا جس دوران وہاں تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اس وقت گولیوں کی گھن گرج سنائی دی جب فوج و فورسز پارٹی جنگجوؤں کی جائے پناہ کے نزدیک پہنچی تو وہاں موجود جنگجوؤں نے اس پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی گولی باری کے نتیجے میں جونیئر کمانڈنگ افسر سمیت تین فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جن کو فضائی خدمات کے ذریعے علاج و معالجہ کیلئے سرینگر کے فوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ طرفین کے مابین ابتدائی گولی باری میں ایک عدم شناخت جنگجو جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کے دوسرے ساتھی نے نزدیکی مکان میں پنا ہ لی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی فائرنگ میں ایک جنگجو کے جاں بحق ہو نے کے بعد علاقے میں گولیوں کا تبادلہ تھم گیا جس کے بعد محاصرے میں پھنسے جنگجو کو خود سپردگی کرنے کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے اس سے انکار کرکے فوج و فورسز پر فائرنگ کے جس کے ساتھ ہی دوبارہ تصادم آرائی شروع ہوئی اور کچھ وقت تک گولی باری ہوئی جس دوران دوسرا جنگجو بھی جاں بحق ہو گیا ۔ ذرائع کے مطابق جھڑپ میں ابھی تک دو جنگجو جاں بحق ہو گئے ہیں تاہم ان کی فوری طور پر شناخت نہ ہو سکی ۔ ادھر پولیس کے ایک سنیئر افسر نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے اور ساری صورتحال آپریشن ختم ہونے کے بعد ہی واضح ہو جائے گی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی نوجونوں کی ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران فورسز اور نوجوانوں کے مابین جھڑپیں بھی ہوئی ۔
Comments are closed.