شہرہ آفاق ڈل جھیل کے گردونواح میں غیرقانونی تعمیرات کی روکتھام؛عدالتی احکامات کے بعد ہوائی سروے کیلئے ڈرون کا استعمال کیا جائے گا
سرینگر/04جولائی: شہرہ آفاق ڈل جھیل کے گردونواح میں غیرقانونی تعمیرات کی روک تھام کیلئے حکومت رواں ماہ میں ڈال اور اس سے ملحقہ نگین جھیل میں ہوائی سروے کرنے کے لئے ڈرون کا استعمال کرے گی۔سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں آبی پناہ گاہوں پر بڑھتے غیر قانونی تعمیرات کے پیش نظر جموں کشمیر حکومت آبی پناہگاہوںکو تحفظ دینے کیلئے سنجیدگی ہو گی ہے جس کی تازہ کڑی کے تحت شہرہ آفاق جھیل ڈل کے گرد نواح میں غیر قانونی تعمیرات کو روکنے اور ان پر نظر رکھنے کیلئے ڈرون خدمات حاصل کی جا رہی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ فضائی سروے کرنے کا فیصلہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے ذریعہ قائم کردہ ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات پر سامنے آیا ہے۔ جموں کشمیر ہائی کورٹ نے گذشتہ برس اپریل میں بھارت کے سرویر اتھارٹی (ایس اے آئی) کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی حدود کی حد بندی کرنے اور تجاوزات کو روکنے کے لئے ڈل جھیل کا سروے کرے۔اس میں کہا گیا ہے کہ کمپیوٹر کی مدد سے ڈیزائن اور جغرافیائی انفارمیشن سسٹم پر مبنی نقشہ بنانے کے اعلیٰ ریزولوشن آرتھوسایسکس کے حصول کے لئے ڈرون پر مبنی فوٹوگرا میٹرک سروے کرایا جانا چاہئے۔جموں کشمیر ہائی کورٹ کے ہدایت نامے کے بعد جموں کشمیر انتظامیہ نے فیصلہ لیا ہے کہ غیر قانونی طور تعمیرات پر نظر گزر رکھنے کیلئے ڈرون کا استعمال کیا جائے گا ۔ لوڈا کے وی سی طفیل متو نے ایک انگریزی روزنامہ سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ ڈل جھیل اور نگین جھیل کے سروے کرنے کے لئے ڈرون کا استعمال کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عارضی تبدیلیوں کے تازہ اعداد و شمار کے حصول کے لئے ہر چھ ماہ میں ایک بار بعد میں فضائی سروے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر ڈرونز اگلے 20-25 دن کے اندر کام شروع کردیں گے اور اس سے تجاوزات کی نگرانی اور روک تھام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ عمل وقت پر شروع نہیں ہوسکا لیکن ہم کوشش کریں گے کہ بہت جلد اس عمل کو شروع کیا جاسکے ، تاکہ ڈل میں غیرقانونی تعمیرات بند ہوں۔ ( سی این آئی )
Comments are closed.