مہلک وبائی بیماری کی قہر سامانیاں جاری ،جموںکشمیر میںمزید دو ہلاکتیں
جموں کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 59تک پہنچ گئی ، تازہ ہلاکتیں جموں اور کپواڑہ اضلاع میں ریکارڈ
شہر سرینگر میں مشروط کاروباری سرگرمیاں بحال و لیکن!سنڈے مارکیٹ ہنوز بند ، بازار سے جڑے افراد مایوسی کے شکار
سرینگر/14جون/سی این آئی// مہلک وبائی بیماری کورنا وائرس کے کیسوں میں اضافہ کے بیچ جموں کشمیر سے اتوار کے روز مزید دو اموات ریکارڈ کی گئی جس کے ساتھ ہی جموں کشمیر میں مہلک بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 59پہنچ گئی ۔ تازہ ہلاکتوں میں ایک موت جموں جبکہ دوسری ہلاکت کپواڑہ میںریکارڈ کی گئی ۔ ادھر جموں کشمیر میں کیسوں کے اضافہ کے بیچ اموات میں بھی روز بروز اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔ ادھر لاک ڈاون کے پانچویںمرحلے میں اگرچہ شہر سرینگر میں بھی مشروط کاروباری سرگرمیاںبحال کرنے کی اجازت دی گئی اور گزشتہ روز مخصوص دکانیں کھلی تاہم سنڈے مارکیٹ ہنوز بند ہے اور ٹی آر سی ڈلگیٹ سے مہاراجہ بازار تک سڑک سنسان اور ویران دکھائی دی جبکہ سنڈے مارکیٹ میں چھاپڑیاں لگانے والے افراد آج بھی مایوس ہے ۔ سی این آئی کے مطابق عالمی وبائی وائرس کی وجہ سے جموں کشمیر میں موت کا تانڈو جاری ہے کوروناوائرس نے اتوار کے روز مزید مریضوںکو اپنا شکار بنادیا ۔اتوار کی صبح جموں کے میڈیکل کالج میں گاندھی نگر جموں سے تعلق رکھنے والے 69سالہ شہری کی موت واقع ہوئی ۔ میڈیکل کالج جموں کے سپر انٹیڈنٹ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گاندھی نگر جموں کے مریض کا کورنا ٹیسٹ 16روز قبل پازٹیو آیا تھا جس کے بعد اس کو اسپتال میں علاج و معالجہ کیلئے داخل کرا یا گیا تھا ۔جس کے بعد وہ سنیچروار اور اتوار کی درمیانی رات کو اسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گیا ۔ اسی طرح سے دوسری موت وادی کشمیر میں ہوئی ۔ سرینگر کے سی ڈی اسپتال میں اتوار کی صبح شمالی کشمیر کے کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے 80سالہ شہری کی موت ہوئی ۔ سی ڈی اسپتال سرینگر کے نوڈل افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کپواڑہ کا مریض گردے کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد سرینگر کے صدر اسپتال میں زیر علاج تھا اور سنیچروار کے روز اس کا کورنا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہیں سرینگر کے سی ڈی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اتوار کی صبح اس کی موت واقع ہوئی ۔ جموں کشمیر میں کورنا وائرس سے مزید دو ہلاکتوں کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد 59تک پہنچ گئی ہے ۔ ادھر کورنا وائرس کے کیسوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ اور اموات کی بڑھتی تعداد کے باعث لوگوں میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ رہی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ عالمی دنیا کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی کورنا وائرس کا قہر جاری ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ کیسوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا رہا ۔ ادھر لاک ڈاون کے پانچویںمرحلے میں اگرچہ شہر سرینگر میں بھی مشروط کاروباری سرگرمیاںبحال کرنے کی اجازت دی گئی اور گزشتہ روز مخصوص دکانیں کھلی تاہم سنڈے مارکیٹ ہنوز بند ہے اور ٹی آر سی ڈلگیٹ سے مہاراجہ بازار تک سڑک سنسان اور ویران دکھائی دی جبکہ سنڈے مارکیٹ میں چھاپڑیاں لگانے والے افراد آج بھی مایوس ہے ۔عالمی وبائی بیماری بیماری کوروناوائرس کیو جہ سے دنیا بھر میں تمام کاروباری ادارے بند رہے اور بھارت میں بھی 2مارچ سے مسلسل لاک چلتا رہا تاہم پانچویں مرحلے میں اگرچہ بھارت کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر میں بھی کاروباری سرگرمیاں چند شرائط کے بعد بحال کی گئیں تاہم سنڈے مارکیٹ 2مارچ سے مسلسل بند پڑا ہے اور اس مارکیٹ سے جڑے ہزاروں تاجر مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی تاجروںنے سی این آئی سٹی رپورٹر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس 5اگست کو سابق ریاست جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن چھن جانے کے پیش نظر سرکار کی طرف سے جاری بندشوں کے نتیجے میں قریب تین ماہ تک سنڈے مارکیٹ بند رہا لیکن چند ماہ سنڈے مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیا ں اگرچہ جاری رہیں لیکن بدقسمتی سے ماہ مارچ کے ابتدائی دنوں سے ہی پھر سے مارکیٹ بند ہوا جس کے باعث اس مارکیٹ سے جڑے افراد فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں کیوں کہ لاک ڈاون کے چلتے اور کوروناوائرس جیسی وبائی بیماری سے بچنے کیلئے سوشل دوری برقراررکھنا ضروری ہے لیکن اس بازار میں ایسا ممکن نہیں ہے اور ہمارا کاروبار مسلسل تعطل کاشکار ہے ۔
Comments are closed.