دلی میں کوروناوائرس کی وجہ سے اموات کی بڑھتی گنتی؛نعشوں کو جلانے کیلئے شمشان گھاٹوں میں اب جگہ نہیں

سرینگر/13جون: دلی میں کوروناوائرس میں مبتلاء افراد کی موت کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے جس کی وجہ سے دلی میں شمشان گھاٹ میں جگہ کم پڑرہی ہے ۔اور ان نعشوں کو دوسرے شمشان گھاٹوںمیں منتقل کیا جارہاہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں کورونا وائرس انفیکشن متاثرین کی بڑھتی تعداد کے ساتھ ہی اس انفیکشن سے مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ کورونا وائرس سے مرنے والوں کی لاشوں کی آخری رسوم کے لئے کچھ شمشان گھاٹوں میں جگہ تک کم پڑتی جا رہی ہے۔ بھیڑ کو دیکھتے ہوئے لاشوں کو طئے شمشان گھاٹ کی جگہ دوسرے گھاٹ پر بھیجنا پڑ رہا ہے۔ تازہ معاملہ دہلی کے پنجابی باغ واقع شمشان گھاٹ سے جڑا ہے۔ نو سے 12 جون کے درمیان یہاں بڑی تعداد میں کورونا سے مرنے والوں کی لاشوں کی آخری رسوم ادا کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی بھیڑ کے مدنظر کچھ لاشوں کو یہاں کی بجائے نگم بودھ گھاٹ بھی بھیجنا پڑا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، نو جون سے بارہ جون کے درمیان کورونا سے مرنے والے لوگوں کی لاشیں بڑی تعداد میں پنجابی باغ شمشان گھاٹ بھیجی گئیں۔ گزشتہ جمعہ کو یہاں گنجائش سے زیادہ لاشیں بھیجنے کے سب کچھ لاشوں کو یہاں کی بجائے نگم بودھ گھاٹ میں لے جانا پڑا۔ پنجابی باغ شمشان گھاٹ کی جگہ ان لاشوں کی ا?خری رسوم نگم بودھ گھاٹ میں ادا کی گئیں۔این ڈی ایم سی کے ایک سینئر ا?فیسر نے کہا کہ نو جون اور دس جون کو ہر ایک دن 65 لاشیں بھیجی گئی تھیں۔ اس کے بعد گیارہ جون کو 73 لاشوں کو آخری رسوم کے لئے بھیجا گیا تھا۔ پنجابی باغ شمشان گھاٹ میں 70 لکڑی پر مبنی چتا اور چار سی این جی پر مبنی چتاوں کی گنجائش ہے۔ رسمی طور پر چتا جلانے کے عمل کا وقت صبح سات بجے سے دس بجے ہے۔ پچھلے تین دنوں میں بڑی تعداد میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی لاشیں بھیجی گئیں۔ گزشتہ جمعہ کو گنجائش سے زیادہ لاشیں ہو گئی تھیں۔ این ڈی ایم سے کے ایک سینئر آفیسر نے کہا کہ ’ لاشوں کو نگم بودھ گھاٹ پر لے جایا گیا تھا کیونکہ پنجابی باغ شمشان گھاٹ میں لاشوں کی تعداد اور ان کے کنبوں کی بھیڑ زیادہ تھی‘۔( سی این آئی )

Comments are closed.