جنوبی کشمیر میں مسلح خونین معرکہ آرائیوں کا سلسلہ جاری؛کولگام کے نپورہ علاقے میں مختصر جھڑپ ، حالیہ میں عسکری صفوں میں شامل ہوئے دو جنگجو جاں بحق

مہلوک جنگجو ئوں کو خود سپرد گی کرنے کا موقعہ بھی دیا گیا ، پستول اور دیگر ہتھیار بر آمد / پولیس

سرینگر/13جون/: محض دو دنوں کے وقفے کے بعد جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے مضافات میں مختصر جھڑپ میں حالیہ میں عسکری صفوں میںشامل ہونے والے دو مقامی جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔ کولگام جھڑپ کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر میں رواں ہفتے کے دوران یہ چوتھی جھڑپ تھی جن میں کل ملا کر 16جنگجو جاںبحق ہو گئے ۔ علاقہ میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئی جبکہ تنائو کا ماحول بھی دیکھنے کو ملا ۔ سی این آئی کے مطابق رواں ہفتے میں جنوبی کشمیر میں چوتھی خونین معرکہ آرائی پیش آئی ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق نپورہ کولگام علاقے میں جنگجوئوںکی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد فوج کے 19 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف اور کولگام پولیس نے علاقے میں جمعہ اور سنیچروار کی درمیانی رات کو ہی تلاشی آپریشن شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں سنیچروار کی صبح اس وقت گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جب علاقے میںجنگجوئوں نے محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش میں فوج و فورسز پر گولیاں چلائی ۔جھڑپ کی شروعات کے ساتھ ہی فورسزاہلکاروں کی اضافی کمک طلب کی گئی تاکہ جنگجوئوں فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے۔علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کئے گئے اور علاقے کو چاروں طرف سے سخت گھیرے میں رکھا گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طرفین کے مابین گولی باری محض کچھ ہی منٹوں تک جاری رہی اور ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میںہی وہ جنگجو جاں بحق ہو گئے جن کی نعشیں بر آمد کر لی گئی اور ان کے قبضے سے پستول اور کچھ ہتھیار بر آمد کر لئے گئے ۔قابل ذکر ہے کہ رواں ہفتے کے دوران یہ جنوبی کشمیر میں چوتھی جھڑپ تھی جن میں کلا ملا کر 16جنگجو جاں بحق ہوئے ۔اس سے قبل ربن اور پنجورہ اور سنگو ہند نامی علاقوں میں 14 جنگجو مارے گئے تھے۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے نپورہ کولگام میں جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپ میںمارے گئے جنگجو ئوں کو خود سپردگی کا موقعہ بھی دیاگیا تاہم انہوں نے خود سپردگی کرنے سے انکار کیا ۔ جس کے بعد جھڑپ میں دونوں مارے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے قبضے سے پستول اور ہتھیار بر آمد کر لیا گیا ہے ۔ ضلع کولگام کے نپورہ گائوںمیں ہفتہ کی صبح چھڑنے والے ایک مسلح تصادم میں دو جنگجو جاں بحق ہونے کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر میں رواں ہفتے چلایا جانے والا چوتھا جنگجو مخالف آپریشن تھا۔ قبل ازیں 7، 8 اور 10 جون کو بالترتیب ضلع شوپیان کے ربن، پنجورہ اور سگھو ہندہامہ نامی علاقوں میں 14 جنگجو مارے گئے تھے۔ادھر مقامی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ میں جاں بحق دو جنگجو مقامی تھے اور وہ حالیہ ہی می عسکری صفوں میں شامل ہو گئے تھے ۔ ادھر پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق کولگام پولیس نے نیپورہ زڈورہ کولگام علاقے میں جنگجوئوں کے موجود ہونے کی ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے کر اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کیلئے تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔ دوران تلاشی علاقے میں چھپے ہوئے جنگجوئوںنے خود کو سلامتی عملے کے گھیرے میں پا کر سیکورٹی فورسز پر گولیاں چلائی اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی ۔ اس جھڑپ میںدو عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔جھڑپ کی جگہ دونوں کی نعشیں برآمد ہوئی۔ تاہم ہلاک ہونے والے جنگجوئوں کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کے بارے میں معلومات کی چھان بین کی جا رہی ہے . پولیس اور سیکو رٹی فورسز نے اپنی محارت کے ساتھ بغیر کسی نقصان کے اس آپریشن کو پائے تکمیل تک پہنچایا ہے ۔ تصادم آرائی کی جگہ سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔برآمد شدہ مواد کو مزید تفتیش اور دہشت گردی کے دیگر جرائم میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لئے کیس ریکارڈ کے ساتھ منسلک رکھا گیا ہے۔ پولیس تھانہ قاضی گنڈ نے اس سلسلے میں ایک کیس متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا اور تفتیش شروع کردی گئی ہے۔پولیس نے عوام سے پُر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کریں جب تک پولیس کی جانب سے متذکورہ علاقے کو مکمل طور پر کلیر قرار نہ دیا جائے کیونکہ معراکہ آرائی کی جگہ پر دھماکہ خیز مادہ پھٹنے کا خطر ہ ہوسکتاہے ۔

Comments are closed.