مہلک وبائی بیماری کووڈ19 سے راجوری ضلع میں پہلی ہلاکت
65سالہ شہری جی ایم سی جموں میں انتقال کر گیا ، مہلوکین کی تعداد 53پہنچ گئی
وادی میں آج بھی کہیں نماز جمعہ ادا نہ ہو سکی ، مساجد کے ممبر و محراب خاموش
سرینگر /12جون: دنیا بھر کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی عالمی وبائی بیماری کورنا وائرس کے کیسوں میں ہز گزرتے دن کے ساتھ اضافہ کے بیچ جمعہ کو جموں کے راجوری ضلع میں پہلی ہلاکت کے ساتھ ہی جموںکشمیر میں مہلک بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 53تک پہنچ گئی ۔ اسی دوران جموں کشمیر میںکورنا وائرس کے کیسوں میں اضافہ کے باعث جہاں بیشتر آبادی گھروں میںہی محصور ہے وہیں جمعہ کو ایک مرتبہ پھر مساجد کے ممبر و محراب خاموش رہیں اور کہیں پر بھی نماز جمعہ ادا نہ ہو سکی ۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں کوروناوائرس کا قہر بدستور جاری ہے ۔جموں کشمیر میں جہاں گزشتہ کئی دنوں سے مثبت کیسوں میں کافی اچھال دیکھنے کو ملا وہیں ہر روز اموات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ۔جمعہ کو مہلک کورنا وائرس نے جموں کشمیر میں ایک اور جان لی جو کہ جموں کے ضلع راجوری میں پہلی کورنا ہلاکت ریکارڑ کی گئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ پیر پنچال علاقے کے ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی جمعہ کو کورونا وائرس سے موت واقع ہوگئی جو اس ضلع میں مہلک وائرس سے ہونے والی پہلی موت ہے۔اس طرح جموں کشمیر میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد53ہوگئی ہے۔اطلاعات کے مطابق کالاکوٹ تحصیل کے سیالسوئی گائوں کا 65سالہ شہری جی ایم سی جموں میں انتقال کرگیا۔اْسے چھ روز قبل جی ایم سی جموں میں زخمی ہونے کے بعد داخل کیا گیا تھا جہاں اْس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجوری شیر سنگھ نے شہری کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضلع میں کورونا سے ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔ادھر جموں کشمیرمیں بڑھتی ہلاکتوں کے باعث لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اسی دوران کورنا وائرس کے کیسوں میں اضافہ کے بیچ لاک ڈائون کے پانچ مرحلے میں بھی آبادی گھروں میں ہی محصور ہے جبکہ جمعہ کو ایک مرتبہ پھر وادی کشمیر میں کہیں بھی نماز جمعہ مساجد میں ادا نہیں کی گی جس کے نتیجے میںمساجد کے ممبر و محراب خاموش رہیں اور لوگوںنے نماز گھروں میں ہی ادا کرنے کو ترجیح دی ۔
Comments are closed.