سب چاہتے ہیں معمولات جلد سے جلد پٹری پرلاٹ آئیں لیکن کوروناوائرس کے کیسوں میں تیزی کے ساتھ لاک ڈاون کھولنا خطرے سے خالی نہیں: ڈاک
سرینگر07جون: ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں کوروناوائرس کے کیسوں میں حد سے زیادہ اضافہ ہورہا ہے اور اس صورتحال میں لاک ڈاون کھولنا بڑی تباہی لاسکتا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں کوروناوائرس کے معاملات میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ لاک ڈاون کا کھولنے کا فیصلہ اس وقت صحیح نہیں ہوگا کیوں کہ کووڈ 19وادی میں اب کمونٹی ٹرانسمشن کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس وقت اگر لاک ڈاون کھل گیا تو جو آگے صورتحال پیش آئے گی اس سے ایک اور لاک ڈاون ناگزیر بن جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے کم رابطے میں آتے ہیں جس سے وائرس کا پھیلائو کم ہوتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ وادی میں اکثریت انفکشن سے پاک ہے تاہم معمولات زندگی بحال کرنے سے وائرس اور تیزی کے ساتھ پھیل جائے گا جس کی وجہ سے صورتحال مزید ابتر ہوسکتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اچانک لاک ڈاون کھلنے کی وجہ سے وائرس نئے حالات پیدا کردے گا۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے لوگ کافی ساری مشکلات سے دوچار ہیں خاص کر اقتصادی طور پر لوگ کافی کمزور ہوچکے ہیں ہم سب چاہتے ہیں کہ حالات جلد سے جلد معمول پر آئے تاہم لاک ڈاون کی وجہ سے ہم اس وبائی مرض سے لوگوں کو بچاسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ آنے والے چند ہفتے مزیدابتر ہوں گے جیسے کہ ہم نے گزشتہ ہفتے دیکھا ۔ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ صورتحال کا جائزہ لئے بغیر معمولات پٹری پر لانا اندھے کی گاڑھی چلانے کے مترادف ہوگا ۔
Comments are closed.