سرکار دیوالہ بن گئی ، قرنطینہ میں رکھے گئے افراد سے وصول کئے جاتے ہیں پیسے
راجباغ کرسو علاقے میں کورنٹائن کیلئے استعمال ہوٹل مالکان لوگوں کو لوٹنے میں مصروف
سرینگر06جون: سرینگر راجباغ کے کرسو علاقے میں ہوٹل میں رکھے گئے افراد کو ٹسٹ کھوجانے کے بہانے مزید کئی دنوں تک ہوٹلوں میں روکا جاتاہے جس کے بدلے قرنطینہ میں رکھے گئے افراد سے فی رات 1800سو روپے وصول کئے جارہے ہیں ۔ کورنٹائن میں رکھے گئے افراد نے متعلقہ ڈاکٹروں اور ہوٹل مالکان کے درمیان ساز باز کا الزام عائد کیا ہے ۔ کرنٹ نیوز ااف اندیا کے مطابق قرنطینہ میں رکھے افراد کیلئے سرکاری سطح پر تمام اخراجات پورے کئے جاتے تھے تاہم کوروناوائرس کی وجہ سے لگ رہا ہے کہ اب سرکار دیوالیہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے اب قرنطینہ میں رکھے جانے والے افراد سے پیسے وصول کئے جارہے ہیں جبکہ ہوٹل مالکان قرنطینہ میں رکھے گئے افراد کو ٹسٹ کی رپورٹ کھوجانے کے بہانے مزید دنوں تک ہوٹلوں میں ٹھہرنے پر مجبور کرتے ہیں اور ان سے وہاں رہنے کے عوض پیسے وصول کئے جاتے ہیں ۔ کورنٹائن میں رکھے گئے افراد نے سی این آئی کو بتایا کہ وہ VILASTA Hotel کرسو راجباغ میں ہیں اور ان کو ڈبل بیڈ سنگل روم کیلئے فی رات 1800روپے دینے پڑتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جب وہ باہر سے آئے تو انہیں کہا گیا کہ ہوٹل میں جتنے دن رہوگے اپنا خرچہ کرنا ہے اور بغیر کھانا پینا صرف رات کو رہنے کیلئے 1800روپے اداکرنے ہیں جبکہ کھانے پینا کا الگ سے دینا ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ وہ اب اپنے گھروں سے کھانا لاتے ہیں لیکن وہ گزشتہ تین روز سے یہاں پر ہیں ٹسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد ہوٹل منتظمین نے ان سے کہا کہ تمارے ٹسٹ کی رپورٹ کھوگئی ہے اسلئے نیا ٹسٹ کرنا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ رپورٹ کھوجانے کے بہانے انہیں ہوٹلوں میں مزید کئی دنوں تک رہنے کیلئے مجبور کیاجاتا ہے جس کے عوض ان سے رقومات وصول کی جاتی ہے ۔ یہاں یہ بات قابل زکر ہے کہ قرنطینہ میں رکھنے کیلئے مرکزی سرکار کی جانب سے یوٹیز اور ریاستوں کو رقومات فراہم کی جاتی ہے تاہم اب ایسا لگ رہا ہے کہ یوٹی سرکار دیوالیہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے اب قرنطینہ میں رکھنے والے افراد سے رقومات وصول کئے جانے کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے ۔ (سی این آئی )
Comments are closed.